Input your search keywords and press Enter.

کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، دنیا ریاستی دہشتگردی ،نسل کشی رکوائے : برطانوی ارکان پارلیمنٹ:بڑی سفارتی کامیابی:پاکستان

لندن،اسلام آباد نہتے کشمیریوں کی حالت زارپردنیاکے ایوانوں میں آوازیں اٹھنے لگیں جبکہ برطانیہ کے ارکان پارلیمان بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے خلاف بول اٹھے ،برطانوی و زیراور 10ارکان نے بھارتی مظالم کاپردہ چاک کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پرگہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے وادی کے باسیوں کی بے بسی کی ترجمانی کی اور بھارتی ظالمانہ پالیسیوں پر کڑی تنقید کرنے کے ساتھ برطانوی حکومت پر بھی مظالم پر واضح مؤقف اختیار کرنے کیلئے زور دیا،ارکان نے کہا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، دنیا ریاستی دہشتگردی اور کشمیریوں کی نسل کشی رکوائے ۔برطانوی ہاؤس آف کامنز میں مقبوضہ کشمیر پرمباحثہ کے دوران مقبوضہ کشمیر کی حالت زار پرویسٹ منسٹرہال میں انتہائی متاثرکن گفتگوکی گئی ۔ برطانیہ کے وزیر انصاف رابرٹ بکلینڈ نے بھارت پر زوردیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں عائد تمام پابندیاں ختم کرے اوروہاں کی زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے دہلی میں برطانوی ہائی کمیشن کی ایک ٹیم کو مقبوضہ وادی کا دورہ کرنے کی اجازت دے ۔ خارجہ ، دولت مشترکہ اور ترقیاتی دفتر (ایف سی ڈی او) کے وزیر نائیجل ایڈمس نے کہاکہ دونوں ملک تنازع کشمیر کا کوئی پائیدار سیاسی حل تلاش کرلیں گے ۔برطانوی ممبر پارلیمنٹ سارہ اوون نے کہا5 لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر کو قید کر رکھا ہے ،کشمیرمیں لاک ڈاؤن عوام کے تحفظ نہیں بلکہ جبری تسلط کیلئے ہے ، کشمیریوں کوہسپتالوں میں جانے سے روکاجارہاہے ، خواتین کی عصمت دری کی جارہی ہے ، مقبوضہ کشمیرمیں ہلاکتوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں، مقبوضہ کشمیرمیں آزادی اظہاررائے پرپابندی ہے ، جیمزڈیلی نے کہا مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کاسنگین مسئلہ ہے ،مقبوضہ کشمیرمیں تشدداورجبری گمشدگیاں عام ہیں ، زیادتی اورجنسی تشددکے واقعات ہورہے ہیں، کشمیریوں پرمظالم کیخلاف متحدہوناہوگا۔جان سپیلر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور پنجاب کی صورت حال بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں،ہم بھارت کے اس نقطہ نظر کو مسترد کرتے ہیں ، ڈیموگرافی کو تبدیل کر کے بھارت ایک ممکنہ ریفرنڈم کے مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے ۔سارا برٹیکلیئر نے کہا 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشمیرتنازع باعث تشویش ہوناچاہئے ۔ناز شاہ نے کہا کہ 2015 سے 2020 کے دوران برطانیہ نے 50 ارب پائونڈ مالیت کا اسلحہ بھارت کو بیچا۔یہی اسلحہ کشمیریوں کا خون بہانے میں استعمال ہو گا،بورس جونسن کیا وہ اسلحہ بیچنا بھی بند کریں گے ؟ ، کچھ نہ کیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ٹیروبی مورنے کہا یواین ایچ آرکوکشمیرمیں حقائق کاپتہ لگاناچاہئے ۔رکن کنزرویٹوپارٹی پال برسٹو نے کہا برطانوی وزراکوبھارتی وزراکیساتھ مسئلے کو اٹھانا چاہئے ۔ جم شینن نے کہاکشمیرمیں مذہبی آزادی کی پامالی جاری ہے ، سٹیفن کنوک نے کہا مسئلہ کشمیرپراقوام متحدہ کی قراردادوں کومانتے ہیں۔ اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی بربریت کے حوالے سے بیان میں کہا کہ آج میں خدا کا شکر بجا لاتا ہوں کہ دنیا جو مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم پر مصلحتاً خاموشی اختیار کئے ہوئے تھی اب وہ خاموشی ٹوٹ رہی ہیں،برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو چکا ہے ،یہ ہماری بڑی سفارتی کا میابی ہے ، ہم شروع سے کہتے آ رہے ہیں کہ ہندوستان، عالمی دنیا کو غلط تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ ان کا اندرونی مسئلہ ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ،20 جنوری کو امریکہ میں بائیڈن انتظامیہ منصب سنبھالنے جا رہی ہے ڈیموکریٹس انسانی حقوق کے تحفظ کے داعی ہیں، مقبوضہ جموں و کشمیر کے لاکھوں مظلوم توقع کرتے ہیں کہ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف امریکہ، برطانیہ، یورپ اور دنیا بھر کی جمہوری طاقتوں کے پلیٹ فارمز سے آواز اٹھائی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے