Input your search keywords and press Enter.

کشمیر ،بھارتی مظالم اور دنیا

برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر پر ہونے والی بحث دنیا کے لئے چشم کشا ہے، ارکان پارلیمنٹ نے پرزور طریقے سے مسئلہ کے تمام جزیات کو اٹھایا۔ سارا اوون نے کہا کہ ’’ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں اس میں یہ جاننا ضروری ہے کہ بھارتی حکومت سوشل میڈیا کے ذریعے کیا کررہی ہے خاص طور پر whatsapp کے ذریعے سوشل میڈیا کے ذریعے باہمی نفرت کا پرچا ر کررہی ہے اور خطے میں اسلام فوبیا کو طاقت کا ہتھیار دے رہی ہے ONLINEمیڈیا جدید دور کا جنگی ہتھیار بن چکا ہے بھارتی لیڈر online پروپیگنڈہ کررہے ہیں ۔کشمیریوں کی online آزادی کا گلا گھونٹ دیا گیا ۔ بھارتی حکومت یا نریندرا مودی پر تنقید سے دہشت گردی کا مقدمہ درج ہوجاتا ہے بھارتی وزیر عالمی طورپر پروپیگنڈہ کرتے ہوئے جھوٹی خبریں ، نسل پرستی کا پر چار کرتے ہیں ۔ کشمیریوں کی آواز کو جبراً دبایا جارہا ہے کشمیری اپنے محفوظ مستقبل کیلئے دہائیوں سے جدوجہد کررہے ہیں جس کا نتیجہ حقیقی طور پر پہلے سے مختلف ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ یہاں ہم کشمیر کے مستقبل کے بارے میں بات کریں ، وہاں کے عوام کیا چاہتے ہیں ؟ آئندہ کیا ہوگا ؟ جموں وکشمیر کے حالات کیسے معمول پر آئیں گے ؟ یہ واضح ہے کہ مقصد کے حصول تک ہمیں طویل صبر آزما جدوجہد کوششیں کرنا ہونگی تا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام اپنے بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ پرامن زندگی بسر کرسکیں ، ہمیں ہر صورت کشمیری عوام کا ساتھ دینا ہوگا کشمیری جو کشمیر میں یا شمال میں رہتے ہیں ان کے محفوظ بنیادی حقوق کیلئے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہا رہونا چاہیے ۔ ‘‘
نگیل آدم ممبر برطانوی پارلیمنٹ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں حکومت کی پالیسی مستقل رہنی چاہیے ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت اس مسئلے کا پائیدار حل تلاش کریں جو کشمیری عوام کی مرضی اورخواہشات کے مطابق ہو برطانوی حکومت کیلئے مناسب نہیں کہ کوئی حل مسلط کرے نہ ثالشی کا کردار ادا کررہی ہے یہ غلط ہے کہ نازک قسم کے انسانی حقوق کے مسائل پر بات نہ کی جائے جو بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں ، مسڑ ڈیوس نے کہا کہ میں کشمیر میں انسانی حقوق پر بات کروں گا میری پہلی تقریر آپ کو حیران کردے گی جو میں نے لکھی تاریخ کا وہ سبق جو ہم یہاں سننا نہیں چاہتے ہمیں اس پر توجہ دینا ہوگی میرے خیال میں یہ بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے،میں دیکھ رہا ہوں اور APPGکے کشمیر کے بارے میں افسران سے ملا ہوں میں نے دن کی روشنی میں ان لوگوں کو دیکھا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی بربادی سے متاثر ہوئے یہ سب کیا ہورہا ہے ؟ میں اور میرے ساتھی کوٹلی کے مہاجر کیمپ میں ایسے لوگوں سے ملے جو شدید زخمی تھے جو بتا سکتے ہیں کہ ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہوا ہے ۔ یہ لوگ کسی تنظیم کی طرف سے لائن میں نہیں کھڑے تھے انہوں نے ہمیں ذاتی طورپر بتایا وہاں لاک ڈائون کیسا ہے ،جو ہمارے ہاں کے لاک ڈائون جیسا نہیں بھارتی لاک ڈائون میں بنیادی انسانی حقوق پر حملہ کیا گیا ہے ۔
’’ ہم یہاں زخمی حالت میں آئے ‘‘ حکومت ہمیں بتا رہی ہے کہ چین میں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے سادہ سی بات ہے کہ ہمیں مسئلہ کشمیر کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے ہمارے ایجنڈے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیا ں ہونی چاہئے ہمارے پاس ہزاروں کشمیر ی نژاد آبادی ہے جو موجودہ صورت حال سے متاثر ہے بحیثیت وکیل میرے پاس انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طویل لسٹ ہے ،غیر قانونی حراست کے دوران تشدد ، ایسے کشمیری جو 50سال سے اپنے مقدمات کا انتظار کررہے ہیں ۔ 50سال سے عالمی برادری ان کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بول رہی عوام پر تشدد معمول ہے ۔
کشمیری لوگوں کو غائب کیا جارہا ہے یہ تمام مناظر ہمیں مغربی میڈیا کی سکرین پر نظر نہیں آرہے ۔بی بی سی بھی نہیں دکھا رہا حال ہی میں عالمی میڈیا نے ہانک کانگ کے مسئلے کو دکھایا لیکن کشمیر پر ایسا کیوں نہیںہوتا ہمیں اس پر بھی سٹینڈ لینا چاہیے میں وزیر موصوف پر زور دوں گا آپ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دیں یہ نہ دیکھیں کہ ہمارے اس ملک سے کیسے تعلقات ہیں ہمیں بچوں کے حقوق ، خواتین کی عصمت دری ، اور ہراساں کرنے کے واقعا ت دیکھنا ہوں گے۔
( جاری ہے )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے