اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)قائد حزب اختلاف سینیٹ راجہ ظفر الحق نے روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے آرڈیننس جاری کیا کہ کشمیر کیلئے علیحدہ قانون نہیں ہو گا، وہ براہ راست بھارت کے ماتحت ہو گا ، آرٹیکل 350جو ہے اس میں مقبوضہ وادی کی بھارت سے علیحدہ کو تسلیم کیا گیا ، ہائیکورٹ نے بھی اس حوالے سے رولنگ دی کہ آرٹیکل 350کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کشمیریوں کے حقوق سلب کیے جا سکتے ہیں لیکن بھارت نے سب کچھ الٹ پلٹ کر رکھ دیا ، ہماری جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی قابل ذکر رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا بلکہ یہ بیان تک دیا گیا آرٹیکل 350سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ، اس آرٹیکل کے تحت غیر کشمیر وادی میں کوئی زمین نہیں خرید سکتا ، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں جو پیچیدگیاں ہیں ہم نے ان کو سمجھانے کی ہی کوشش نہیں کی، اس وقت اپوزیشن بھی بکھری ہوئی تھی اس نے بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا، پی ڈی ایم کا کشمیر کے حوالے سے موقف واضح ہے کیونکہ مولانا فضل الرحمان کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے انہیں علم ہے کہ یہ معاملہ کتنا گھمبیر ہے ، بھارت جو بھی اقدامات کر رہا ہے اس کی کوشش ہے کہ وہ پاکستان کو کسی نا کسی طریقے سے گھیرے ، ایل او سی پر جو کچھ ہو رہا ،بلوچستان میں جو دہشتگری ہے ، سرحدوں پر جو حالات خراب ہیں وہ اسی لئے بھارت کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو گھیر سکے ، اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ پلوامہ میں بھارت نے اپنے فوجی خود ہلاک کرائے تاکہ پاکستان کو اس سلسلے میں گھیر سکے ، اس وقت ابھی نندن کو بھی فوری رہا نہیں کرنا چاہئے تھا یہ سب کچھ دباءو کے تحت ہوا، انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ہم لوگوں کو بریفنگ کیلئے بلایا گیا ، وزیر اعظم نے بھی آنا تھا مگر وہ نا آسکے ، ہ میں آرمی چیف نے بریف کیا، راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اس معاملے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ، ایک اجلاس ہو جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز موجود ہونے چاہئیں ، انہوں نے کہا کہ پانچ فروری سے قبل اس سلسلے میں مل بیٹھنا چاہئے ، عالمی تاریخ کو دیکھیں تو لوگوں نے بڑی بڑی قربانیاں دے کر پاکستان حاصل کیا ۔
مسئلہ کشمیر ، 5فروری سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز کو باہمی مل بیٹھ کر فیصلہ کرنا چاہئے ، راجہ ظفر الحق
