کراچی (سٹاف رپورٹر)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ اور جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام کی رائے کا احترام ہونا چاہیے ، نئے امریکی صدر اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں، جوبائیڈن جمہوری سوچ اور فلسطینیوں کی رائے اور حق کا احترام کرتے ہوئے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا فیصلہ واپس لیں، عمران خان کی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، عمران خان کو مسلط کرنے کے لیے اسرائیل ، بھارت اور قادیانیوں نے فنڈنگ کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو مزار قائد سے متصل شاہراہ پر جے یو آئی پاکستان کے تحت ‘‘ اسرائیل نامنظور ملین مارچ ’’ سے خطاب میں کیا۔ مارچ سے فلسطینی مفتیٔ اعظم اور قبلۂ اول بیت المقدس کے امام شیخ عکرمہ صبری، حماس کے قائد اور فلسطین کے سابق وزیراعظم محمد اسماعیل ہانیہ نے ویڈیو لنک پر خطاب کیا۔ فضل الرحمن نے کہا کہ سعودی عرب کے شاہ فیصل شہید نے فرمایا تھا کہ تمام عرب اسرائیل کو تسلیم کر لیں تب بھی ہم تسلیم نہیں کریں گے ۔بانی پاکستان نے کہا تھا کہ اسرائیل نے مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے ، کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے ۔ پہلے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے قادیانی ہونے کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ پینگیں بڑھانے کی کوشش کی ۔قادیانی اُس وقت بھی امت مسلمہ کا غدار تھا اور آج بھی غدار ہے ، قادیانیوں کی اصل پناہ گاہ اسرائیل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس نے بتایا ہے کہ عمران خان کو الیکشن کے لیے دو دشمن ملکوں اسرائیل اور بھارت سے بھی پیسہ آیا ہے ، اسرائیلیوں نے بھی اس فنڈ میں حصہ ڈالا ۔آج حکمرانوں نے اسرائیل کے خلاف میری برائے راست کوریج پر پابندی عائد کر دی ہے ، جو کچھ کر لو میری آواز کرۂ ارض کے کونے کونے تک پہنچ چکی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے واشگاف اعلان کیا کہ اسرائیل کو کسی کا باپ تسلیم نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمائما کے بھائی کی الیکشن مہم عمران خان نے چلائی۔عمران خان کو وزیراعظم کہنا جرم ہے ۔ میں مولوی ہوں یا نہیں اس کا فیصلہ عالم کو کرنا ہو گا ۔جس کو ‘‘ خاتم النبیین’’ اور ‘‘روحانیت ’’ پڑھنا نہ آتا ہو وہ کہتا ہے کہ مجھے مولانا کہنا ظلم ہے ۔فلسطینی مفتی اعظم اور مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ مسجد اقصیٰ قبلۂ اول ہے ، یہاں کی انتظامیہ اور اس کے محافظوں کی جانب سے سلام پیش کرتا ہوں، یہ اجتماع آپ کی قبلۂ اول سے محبت کی دلیل ہے ۔حماس کے قائد اور سابق وزیراعظم ڈاکٹر اسماعیل ہانیہ نے کہا کہ ہم قبلۂ اول کے احاطے سے اہل پاکستان کی قبلۂ اول سے دفاع اور مسجد اقصیٰ کے لیے اٹھنے والی آواز، جذبات اور جدو جہد کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں ایک بیانیہ مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ، ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مدارس کے طلبہ کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے ۔ زبان، رنگ و نسل کی بنیاد پر اختلافات کے مخالف ہیں۔ سینیٹر عبدالغفور حیدری، جماعت اسلامی کے اسد اللہ بھٹو، پی پی کے سعید غنی، جے یو پی کے مرکزی سیکریٹری جنرل شاہ اویس نورانی، سینیٹر عطاء الرحمن، مولانا عبدالقیوم اور دیگر نے بھی اجتماع سے خطاب کیا۔
فلسطین اور کشمیر کے عوام کی رائے کا احترام ہونا چاہیے، بائیڈن کردار ادا کریں ، فضل الرحمن
