بیانیہ دماغوں کو جکڑلیتا ہے، اور دماغ افراد کو قابو کرتے ہیں، دماغوں کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنی گرفت میں لیاجاتا ہے۔ یعنی ذرائع ابلاغ اُس طاقت کا نام ہے جو انسانی اذہان کو بنانے، سنوارنے اور بگاڑنے کے کام آتی ہے۔ عام آدمی یہ سمجھتا ہے کہ بیانیے کی تشکیل میں اصل طاقت ذرائع ابلاغ ہیں، لیکن در حقیقت اصل طاقت وہ مقتدر شخصیات ہوتی ہیں جو جو ذرائع ابلاغ کو اپنے مقاصد کیلئے خرید لیتی ہیں۔ وہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنے مفاد کے مطابق بیانیے تیار کرواتی ہیں اور پھر انہی بیانیوں کے ذریعے انسانی اذہان کو قابوکرتی ہیں۔ یہی شخصیات یہ بھی طے کرتی ہیں کہ ہم نے مختلف بیانیوں کو درجہ بندی کے اعتبار سے کس مقام پر رکھنا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب ہمارا بیانیہ “پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔لاالہ الاللہ” تھا۔ ہمارے دماغوں میں پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچی، کشمیری ،بنگالی، شیعہ ، سنی ، اہل حدیث اور دیوبندی کا تعصب نہیں تھا۔ بعد ازاں مقتدر شخصیات نے اپنے اپنے فائدے کیلئے “ بنگالی غدار، فلاں کافر،ملک دشمن،مقامی و مہاجر، اور لسانی و صوبائی تعصبات“ پر مبنی متبادل بیانیے سامنے لائے ۔ ان بیانیوں نے بھائی کو بھائی سے الگ کر کے رکھ دیا اور بنگال ہم سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا ۔
اس کی دوسری مثال افغانستان اور روس کی جنگ ہے، مقتدر شخصیات کو جب اس جنگ کے لڑنے کے ڈالر مل رہے تھے تو انہوں اسے جہادِ افغانستان کا نام دے کر بعض پاکستانی دینی مدارس کے نیک اور صالح جوانوں کو مجاہدین کہہ کر اس جنگ میں دھکیل دیا ۔خیبرپختونخواہ میں اس بیانیے کے تحت سکولوں کی درسی کتب بھی مرتب کی گئیں۔لیکن جب مقتدر قوتوں اور شخصیات کا مفاد تبدیل ہو گیا تو پھر مجاہدین کے بجائے “سب سے پہلے” پاکستان کا بیانیہ سامنے لایا گیا ، اور اس بیانیے کے تحت اپنے ہی تیار کردہ مجاہدین کو مارنا شروع کر دیا گیا۔
اسکی تیسری مثال کے طور پر آپ کشمیر کو لیجئے، ہمارے بچپن تک ہمارا ملّی و قومی بیانیہ کشمیر پاکستان کی شہرگ ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان تھا ، اس وقت ہماری درسی کتابوں میں تاریخ کشمیر، مشاہیر کشمیر، کشمیری ثقافت، ہمارے ڈراموں میں کشمیر کی مظلومیت اور ہمارے سیاستدانوں کی تقریروں میں کشمیر کے حوالے سے دوٹوک بات کی جاتی تھی۔۔۔ اُن دنوں صبح سویرے کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے سکولوں کے درودیوار دہل جاتے تھے۔ آزاد کشمیر میں کالج کے طلبا کو باقاعدہ این سی سی کی ٹریننگ دی جاتی تھی۔ ۱۴ اگست کو جوش و خروش اور ولولے کے ساتھ منایا جاتا تھا، پاکستان کے ذرائع ابلاغ پر کشمیر کا مسئلہ چھایا ہوتا تھا، لیکن اب کشمیرکے بیانیے کے بجائے مضبوط اقتصاد کا بیانیہ چھا گیا ہے۔اب کئی سالوں سے مقتدر شخصیات اور آئی ایم ایف کا بیانیہ ہی ہمارا بیانیہ ہے۔
اب ہمارے اذہان پر کشمیر نہیں اقتصاد سوار ہے، اب ہمارے درسی نصاب اور ذرائع ابلاغ میں کشمیر کا ذکر بس واجبی سا رہ گیا ہے۔ اب ہم کشمیر کا مالی اور اقتصادی فوائد کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں، اب ہم برملا یہ کہنے لگے ہیں کہ کشمیر کو چھوڑو اور اپنے اقتصاد کو مضبوط کرو۔ اب تو یہ فکر عام کی جارہی ہے کہ کشمیر کی وجہ سے تو پاکستان کا اقتصاد ڈوب گیا ہے، پاکستان کے بجٹ کا جو حصہ ہم دفاع پر لگاتے ہیں یہ سراسر فضول خرچی ہے، لہذا کشمیری جانیں اور اُن کا کام، ہمیں تو سب سے پہلے پاکستان کو اقتصادی حوالے سے مضبوط کرنا ہے۔ چنانچہ ہمیں کشمیر سے لاتعلق ہو کر اپنے دفاعی بجٹ کو کم کر کے وہ پیسہ بھی اپنے اقتصاد پر لگانا چاہیے۔
ہم اس وقت اس نظریے کو رد نہیں کرنا چاہتے، اس پر بعد میں بات کریں گے کہ کشمیر کا پاکستان کے اقتصاد کے ساتھ موازنہ ہونا چاہیے یا نہیں ، لیکن آج صرف اپنے ہم وطنوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بیدار ہو جائیے، آنکھیں کھولئے۔۔۔مسئلہ کشمیر کے بارے میں ہمارے اذہان تبدیل ہو چکے ہیں، ہمیں اقتصاد کا درد محسوس ہو رہا ہے لیکن کشمیر کا دردختم ہو گیا ہے۔۔۔ کشمیر پر ہمارا بیانیہ بدل چکا ہے۔۔۔ابھی بھی وقت ہے ۔۔۔ اس کے عواقب اور نتائج پر غور کیجئے۔
