آزاد کشمیر بھرمیں مزدورطبقہ اور محنت کش مشکلات کی چکی میں پس رہے ہیں اور حکومت کی عدم توجہ کا شکار ہیں. حکومت ای او بی آئی طرز کا ادارہ بنائے جو مزدوروں کوپنشن اور علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرے ان خیالات کا اظہار انیس احمد کشمیری ممبر سنٹرل ایگزیکٹو و منشور کمیٹی پی پی پی آزادکشمیر نے مزدوروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ جس طرح سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت پینشن دیتی ہے اسی طرح مزدور طبقہ اور محنت کش
بھی ریاست کے شہری ہیں لہذا وہ بھی پینشن اور مفت علاج معالجہ جیسی سہولیات کے مستحق ہیں۔کئی مزدور مزدوری کرتے ہوئے زخمی ہو جاتیہیں یا کام کرتے ہوئے گر کر معذور ہوجاتے ہیں اور مزدوری کرنے کے قابل نہیں رہتے موجودہ دور میں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ان کی مالی مدد اور طبی سہولیات کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے جس کو ریاست پورا کرنیمیں قاصر ہے۔شہروں کی چمک دھمک جس دیہاڑی دار مزدور کی مرہون منت ہے اسی کو نظرانداز کیا جارہا ہیجو کہ سراسر انصافی ہے۔ سرمایہ دار اورمحنت کش دو طبقات ہیں سرمایہ دار آپس میں ایک ہیں اور محنت کش طبقے کا استحصال کر رہے ہیں۔ مزدور کی کوئی قوم اور قبیلہ نہیں ہوتا مزدور صرف مزدور ہوتا ہے بیرون ملک بھی اور پاکستان میں بھی مزدور مزدورہے۔میرا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ مل کر جدوجہد کریں آپ ایک بہت بڑی طاقت ہیں آپ اتحاو اتفاق سے اپنے مطالبات منوا ئیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جنرل ورکرز یونین کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اور اس یونین کا دائرہ اختیار پور یآزاد کشمیر تک ہو اس یونین کو باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ کروایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹوزرداری نے عہد کیا ہے کہ اقتدار میں آکر جنرل ورکرز کو ان کے حقوق اور سوشل سکیورٹی دیں گے۔مالک انقلابی سٹی جنرل سیکرٹری پیپلز پارٹی آزادکشمیر, پی پی پی رہنماء راجہ عتیق الرحمان,
راجہ ساغر کشمیری,راجہ محمد حنیف,راجہ ظہور احمداور راجہ محمد انور نے بھی اجتماع سے خطاب کیا۔اجتماع میں مزدوروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کا عہدکیا
