ریاست جموں وکشمیر اپنے قدرتی حسن اور جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے ہمیشہ عالمی رہنمائوں ، ذی شعور اورباضمیر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنار ہا ہے ۔ مگر تقسیم برصغیر کے بعد بھارت نے جبری قبضے کے بعد ، نہ صرف اس جنت نظیر وادی کو جہنم میں تبدیل کیا ، بلکہ یہاں کے قدرتی حسن کو تباہ کردیا ۔ غیر قانونی قابض بھارت نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے 5 اگست 2019ء سے کشمیریوں کے خلاف انسانیت سوز مظالم اور ریاستی دہشت گردی کا نیا سلسلہ شروع کیا ،جنت نظیر کشمیر کو دنیا کی بدترین جیل اور جہنم زار بنا دیا ۔ بھارتی آئین سے دفعہ 370ختم کرنے کا مقصد تحریک آزادی کشمیر کو فوجی قوت کے ذریعے کچلنا اور ، ریاست کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے ۔تمام تر فوجی قوت کے باوجود قابض بھارتی اخلاقی ،سیاسی اور سفارتی سطح پر شکست کی راہ پر اور کشمیری قوم کامیابی کی راہ پر گامزن ہے ۔
27اکتوبر 1947ء کو ایک جبری اور جعلی معاہدے کے بعد کشمیر پر فوجی قبضہ کرکے یہاں مظالم کے پہاڑ توڑے اورلاکھوں نہتے کشمیریوں کو شہید کردیا گیا ۔ ظلم وجبر کے ایسے حربے استعمال کئے جن کی مثال تاریخ میں ملنا مشکل ہے ۔لیکن حریت پسند کشمیری قوم کے پایہ استقلال میں ذرا بھی لغزش نہ آئی۔ کشمیری قوم نے کبھی بھی جبری بھارتی فوجی قبضے کو تسلیم نہ کیا ۔ وہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کے سامنے سینہ سپر رہے ۔ زخم کھاتے رہے مگر بہادر قوم نے اپنی بے مثال قربانیوں اور لازوال جدوجہد کے ذریعے پوری دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کروائی ۔
کشمیری اپنا بنیادی حق، حق خود ارادیت مانگ رہے ہیں جس کا وعدہ اقوام عالم نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی 18سے زائد متفقہ تسلیم شدہ قرار دادوں کے ذریعے کیاہوا ہے ۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک نے انہیں قبول کرتے ہوئے ان پر دستخط کئے ہوئے ہیں ۔پاکستانی قوم اور ریاست نے ہمیشہ کشمیریوں کے اس بنیادی حق کی حمایت اور عالمی سطح کے ہر فورم پر اخلاقی ،سیاسی اور سفارتی سطح پر ان کی مدد کی ، مگر قابض بھارت روز اول سے قبضہ برقرار رکھنے کیلئے تاخیری حربے استعمال کرتا رہا ۔ سچ یہ ہے کہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم نے بھارتی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں عالمی برادری اور کشمیری قوم سے رائے شماری کا حق دینے کا وعدہ کیا ۔ پنڈت جواہر لال نہرونے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ اگر کشمیر ی بھارت سے الگ ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ، انہوں نے کہاکہ پنڈت جواہر لال نہرو ،بھار ت کے پہلے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ’’ ہم کشمیریوں کو اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ اگر وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں اگروہ ہم سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں یا کسی اور کے ساتھ جانا چاہتے ہیں تو ہم انہیں زبردستی اپنے ساتھ نہیں رکھیں گے یہ ان کا حق ہے ہم انہیں مجبور نہیں کریں گے ‘‘
کشمیر ی قابض بھارت سے یہی مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق رائے دہی دیا جائے ۔ تحریک آزادی کشمیر کے بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ ’’ ہم بھارت سے ان کا کوئی حصہ علیحدہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کا حق مانگ رہے ہیں۔ سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ ’’ کشمیری کسی بھی طرح بھارت کا حصہ نہیں ہم بھارت کا کوئی جائز حصہ اس سے الگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس کے ناجائز اور غیر قانونی قبضے سے ریاست کشمیر کو چھڑانے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ یہ حق ہمیں تقسیم برصغیر کے طے کردہ اصولوں اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی متفقہ قراردادوں نے دیا ہم بھارت سے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ہم اپنی زندگیاں اپنی مرضی اور اپنے مذہبی اصولوں کے مطابق گذار سکیں ‘‘
بھارت کے کئی باشعور اور باضمیر لوگ اس حقیقت سے انکار نہیں کررہے کہ کشمیریوں کو رائے شماری کا حق دیاجائے ۔ ان کا کہناکہ تقسیم برصغیر کے رہنما اصولوں کے مطابق کشمیر کسی بھی صورت بھارت کا حصہ نہیںبن سکتا ۔ ملٹری فورسز کے بل بوتے کسی بھی جمہوری یا سیکولر ملک کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس سے انکار کرے۔
بھارتی دانشور تجزیہ کارارون دھتی رائے نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ہر ملک کی ذمہ داری ہے ۔بھارت پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیریوںکو ان کا حق ارادیت دے ان پر مظالم بندکرے ۔ بھارت نے نہ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کیا نہ اپنے اولین رہنمائوں کے وعدوں کا ، بھارت نے کشمیریوں پر اس قدر مظالم ڈھائے اور جنوبی ایشیاء کو ایسے خطرات سے دوچار کردیا جن سے نہ صرف جنوبی ایشیاء بلکہ پوری دنیا کے امن کو خطرہ ہے ۔ بھارت کے نسل پرست اور توسیع پسندانہ رویے کا جائزہ لے کر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ’’ ہم مقبوضہ جموں وکشمیر کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں ِاور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرار دادوں کے مطابق ہونا چاہیے ۔ لائن آف کنٹرول کی صورت حال نازک ہے دونوں ملک تحمل سے کام لیں اور ایل او سی پر UNMOGIPکو آزادانہ کام کرنے دیں ۔ پاکستان کی طرف ہمیں کوئی رکاوٹ نہیں ۔لیکن بھارت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو اقوام متحدہ کے اختیارات کے مطابق کام کرنے دے ۔ ‘‘
اندھا دھند فائرنگ ،اغوا ، گرفتاریاں ،قتل وغارت گری ، پیلٹ اور پپر گن شیلنگ ،گمنا م قبروں کے انکشافات اور طرح طرح کے مظالم نے بین لاقوامی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کروائی ۔امریکی پروفیسر ولیم وائین نے کشمیر کی گھمبیر صورتحال کی حساسیت پر اپنے خیالات کا اظہار ہوئے کہا کہ پروفیسر ولیم نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورت حال کے بارے میں کہا کہ ، ’’ بھارتی فوجیوں نے کشمیر میں انسانیت کی بدترین تذلیل کی میں ایک 82سالہ عورت سے ملا ، 10بھارتی فوجیوں نے تین دن تک اس کی عصمت دری کی ، میں ایک دس سالہ بچے سے ملا پیلٹ گن سے اس کے چہرے پر فائر کیا گیا وہ ہمیشہ کیلئے معذور ہوگیا ، میں نے سری نگر میں ایک ایسے نوجوان کشمیری کا انٹرویو کیا ، بھارتی فوجیوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس پر گن پاوڈر چھڑکنے کے بعد اسے آگ لگادی اسے چودہ 14مرتبہ خون دیا گیا لیکن وہ بھی ہمیشہ کیلئے معذور ہوگیا ۔‘‘
یورپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ کشمیریوں پر ظلم ڈھانے والے بھارتی فورسز کو لگام اور کشمیریوں کو ان کا حق دیا جائے ؛برطانوی پارلیمان میں تسلسل سے مسئلہ کشمیر زیر بحث رہتا ہے ۔13جنوری 2021ء کو ویسٹ منسڑ ہال میں بھارتی ریاستی دہشت گردی پر بات کی۔ برطانوی ارکارن پارلیمان نے بھارتی فوج کے ہاتھوں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں پر ظلم وستم بند کریں ۔ اقوام متحدہ کے 74ویں اجلاس کے موقع پر جہاں وزیر اعظم پاکستان نے کشمیریوں کی صحیح معنوں میں وکالت کی وہاں ترکی کے صدر طیب اردگان ،اور ملیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کہاکہ مسئلہ کشمیر طویل عرصے سے حل طلب ہے اقوام متحدہ اور عالمی برادری اسے منصفانہ انداز میں حل کرے۔ آزادی کشمیریوں کا مقدر ہے ۔ بھارت چاہے جتنے بھی مظالم ڈھا ئے ، کشمیریوں کی تحریک آزادی جاری رہے گی ۔ اب کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم وستم کا کسی بھی صورت چھپایا نہیں جاسکتا ،بین الاقوامی برادری کشمیرکی سنگین صورت حال سے آگاہ ہے ۔ اسی لئے تمام عالمی فورم پر مقبوضہ جموں وکشمیر بندکرنے اور کشمیریوں کا ان کا بنیادی حق ، حق خود ارادیت دینے کا مطالبہ کررہی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ کشمیریوں کی لازوال جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کی وجہ سے ، وہ دن دور نہیں جب مظلوم اور محکوم کشمیری آزادی کی صبح دیکھیں گے ،جبکہ ، بھارت ناقابل یقین شکست کا شکار ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا ۔ ان شااللہ
مسئلہ کشمیر اور عالمی قیادت
