Input your search keywords and press Enter.

کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین کے ساتھ خصوصی نشست انسانی حقوق کمیشن مقبوضہ جموںوکشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو عالمی سطح پر بے نقاب کر رہا ہے

 کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ کے مرکزی دفتر اسلام آباد میں آج ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین شجاع جمشید اور جنرل سیکریٹری ثنا ءاحمد کے ساتھ ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نشست میں بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیر کی موجودہ صورتحال اور بھارت کی طرف سے مقبوضہ علاقے کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے ، حریت قیادت کی مسلسل گرفتاری اور نظربندی ،نہتے کشمیریوں پر بھارتی قابض فوجیوںکی طرف سے ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ اس موقع پر حریت قائدی نے کہاکہ تحریک آزادی کشمیر کیلئے ہر کشمیری نے قربانی دی ہے اور ان قربانیوںکی وجہ سے ہی مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کی فسطائی حکومت عالمی برادری کی تشویش کو نظرانداز کرکے مقبوضہ جموںوکشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوںکو غیر موثر کرنا چاہتی ہے ۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین شجاع جمشید نے اس موقع پر کہاکہ انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت خاص طورپر 5اگست2019کے بعد نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم ہر بین الاقوامی فورم پر بے نقاب کئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ کشمیری بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بدترین شکار ہیں اور ہم اپنے مظلوم بھائیوں کی مشکلات دور کرنے کیلئے ہرفورم پر آواز بلند کر رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ کشمیریوںنے اپنے ناقابل تنسیخ حق، حق خودارادیت کے حصول کیلئے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں اورقربانیوںکایہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ بھارت تمام تر وسائل کے باوجود کشمیریوںکے جذبہ حریت کو کمزور کرنے میں ناکام رہا ہے ۔حریت رہنماﺅںنے کہاکہ کشمیری ایک اہم مقصد کیلئے اپنی جانوںکا نذرانہ پیش کررہے ہیں اور شہداءکی قربانیوںکو ہرگز رائیگاںنہیں جانے دیا جائے گا۔ انہوںنے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زوردیا کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوںکا سخت نوٹس لیں۔ اجلاس میں مقبوضہ جموںوکشمیرمیں حریت رہنماﺅںکی گرفتاریوںاور مسلسل غیر قانونی نظربندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے انکی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیاگیا ۔ اجلاس میں سید فیض نقشبندی ، محمد فاروق رحمانی ، محمود احمد ساغر ، شیخ عبدالمتین ، عبدالمجید ملک ، شمیم شال ، عدیل مشتاق وانی ، عبدالمجید میر ، حسن البنائ، ایڈووکیٹ پرویزاحمد، نذیر احمد کرنائی ، سید اعجاز رحمانی، زاہد اشرف ، راجہ خادم حسین ، حاجی سلطان بٹ ، گلشن احمد ، سید زاہد مشتاق ، سلیم ہارون اور امتیاز وانی نے شرکت کی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے