Input your search keywords and press Enter.

کشمیر ،ایشیاء اور امریکہ کی پاور گیم !

دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ کے 180 ممالک میں دو لاکھ سے زائد فوجی موجود ہیں ان میں سے صرف سات ممالک ایسے ہیں جہاں امریکی فوجی کسی مہم میں
دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ کے 180 ممالک میں دو لاکھ سے زائد فوجی موجود ہیں ان میں سے صرف سات ممالک ایسے ہیں جہاں امریکی فوجی کسی مہم میں فعال کردار ادا کر رہے ہیںلیکن ایشیاء میں امریکی فوج کا کردارصرف قبضے اورلوٹ مار کے سواکچھ نظر نہیں آتا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اپنے دور اقتدار کے اوائل میں اس نے امریکی فوج کو ایشیا اور دیگر ممالک میں مداخلت سے نکالنے کی بجائے مزید پھنسا دیا اور وجہ صرف دنیا کو یہ بتانا تھا کہ امریکہ کا صدر اب ٹرمپ ہے لیکن روزانہ کی بنیادوں پر گرتی امریکی معیشت نے ٹرمپ کو مجبور کیا کہ وہ امر یکی فوج کو واپس بلائے جس کیلئے طالبان سمیت ہر سٹیک ہولڈر کو شامل مذاکرات کیا گیا ایشیاء خصوصاً افغانستان کے حوالے سے مرکزی کر دار پاکستان نے ادا کیا اور امریکہ ہی نہیں بلکہ ٹرمپ کو اپنا ملک بچانے کیلئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کروائے حالا نکہ امریکی فوج اور ایجنسیوں نے بلوچستان کے حوالے سے جو کردار ادا کیا اسے بھی پس پشت ڈال دیا لیکن ٹرمپ پھر سنجیدہ نہ ہوئے اور معاملات روزانہ کی بنیاد پر تاخیر میں جانے لگے اور آخر الیکشن میں شکست کے باعث ٹرمپ کا یہ خواب چکنا چور ہوگیا کہ امریکی فوج کو واپس بلا کر اپنے ملک کی معیشت کو مضبوط بنائے اس میں جہاں امریکی اداروں نے سازشیں کیں وہیں ٹرمپ کی اقتدار کی ہوس نے بھی اسے اپنے ہی ملک کے لیے اپنے ہی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے دیا۔
امریکہ کے نئے صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سابق صدر ٹرمپ اور طالبان کے درمیان طے ہوئے افغان امن معاہدے کا جائزہ لے گی جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ کا فیصلہ اس کے عوام کیلئے نہیں اس کے اداروں کیلئے ہوتا ہے اور لوٹ مار، پاور گیم اس کا مر کزی عنصر ہے۔ امریکہ کے لیے افغانستان کی جنگ اب پھرسب سے بڑا چیلنج ہے۔ امریکہ کو افغانستان میں القاعدہ، طالبان سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے لیکن امریکہ کو اپنی پاور شو کیلئے کچھ بھی کرنا ہے اور یہی وہ دنیا کے ساتھ کرتا آیا ہے اور مستقبل میں کرتا نظر آرہا ہے پاکستان اور بھارت میں دیرینہ تنازع کشمیر بھی اسی پاور گیم کا حصہ ہے اقوام متحدہ کی قراردادوںکے باوجود، دنیا بھر میں بھارتی خصوصاً ہندئو بنیے کے ہاتھوں کشمیریوں کے مسلسل قتل عام کے باوجو د امریکہ کا منافقانہ رویہ اس امر کا عکاس ہے کہ امریکہ کو ایشیا میں صرف اپنے پاور گیم سے غرض ہے کسی ملک اور کسی ملک کے عوام سے اسے کوئی غرض نہیں۔ دہاہیوںسے سسکتا کشمیر ایک بار پھر شدید ظلم و ستم کا شکار ہے اورمسلسل کرفیو کی صورتحال نے وادی کو اوپن (کھلے) جیل میں تبدیل کردیا ہے۔ برصغیر پر انگریز کے قبضے نے نہ صرف یہاں کے دھن و دولت اور وسائل پر قبضہ کیا بلکہ یہاں کی تمام ریاستوں و اقوام کی خودمختاری کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچایا۔کشمیرکی خودمختاری بھی اسی کی نذر ہوگئی۔ انگریز کی حرص پر مبنی اس شاطرانہ پیش قدمی کی شکار کئی اقوام آج تک اپنے قومی وجود وحق اقتدار کی بحالی کے لیے محوئے جستجو ہیں۔
انگریز نے دوسری جنگ عظیم میں ہونے والے مالی خسارے اور انتظامی کمزوری کی وجہ سے دنیا پر قائم اپنے قبضوں کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے تحت ہی برصغیر کو بھی بیرونی تسلط سے آزادی نصیب ہوئی لیکن انگریز جاتے جاتے خطے کی من پسند بندر بانٹ کی خواہش میں بھی یہاں کئی سوالات اور تنازعات برپا کرتا گیا۔ ان میں سے سب سے بڑا سوال اور تنازع کشمیر کی صورت میں نظر آتا ہے۔ جو بظاہر دو ہمسایہ ممالک انڈو پاک کے درمیان بٹوارے کے مسئلے کے طور پر ابھرا لیکن درحقیقت یہ دنیا کی جنت کہلانے والے اس کشمیر کے قومی وجود کے ختم ہونے کا نوحہ ہے ۔1947ء میں دونوں ملکوں کی افواج کی پیش قدمی کی بنیاد پر یہ وادی جنگ کا میدان بن گئی۔ بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد بالآخر نوزائیدہ عالمی اقوام کے مشترکہ ادارے اقوام متحدہ کی ثالثی کی بنیاد پر جنگ بندی ہوئی اور تنازعے کے مستقل حل تک دونوں ملکوں کی افواج کی اس وقت پوزیشن والی جگہ کو عبوری حد بندی قرار دیا گیا۔ جبکہ تنازعے کے مستقل حل کے لیے دونوں ملکوں کو انسانی حقوق پر مبنی اقوامِ متحدہ کے چارٹر آف ڈیمانڈ کے تحت پاس کردہ قرار دادوں کا بھی پابند کیا گیا۔ لیکن اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر اگر آج تک حل نہیں کیا جا سکا ہے تو اس میں ایک طرف بھارت کی ہٹ دھرمی ہے تو دوسری طرف اقوام ِ متحدہ بھی اپنی قراردادوں کا بھرم نہیں رکھ سکی ہے۔کشمیر کے تنازعے کو بنیاد بنا کر امریکہ اور بھات نے عالمی طاقتوں بلاکوں میں منقسم کر رکھا ہے۔ بظاہر دنیا کے تمام ممالک کے آپس میں سفارتی تعلقات ہیں لیکن سوشل اکنامک ترجیحات کی بنا پر عالمی قوتیں کشمیر معاملے میں جانبداری دکھاتے ہوئے بھارت کے ناجائز اقدامات پر بھی خاموش رہتی ہیں اور اس مسئلے کو پاک بھارت تنازع قرار دینے کی آڑ میں وہ کشمیری عوام پر بھارتی جبر و بربریت پر خاموش (یعنی نیم رضا مند) رہتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے چارٹر آف ڈیمانڈ کے متن کے مطابق ادارے کی ذمہ داری قرارپائی کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچایا جائے گا، انسانوں کے بنیادی حقوق، انسانی اقدار کی عزت اور قدرومنزلت کی جائے گی۔ چارٹرآف ڈیمانڈ کے دستور کے آرٹیکل 2کے تحت تمام رکن ممالک کو مرتبہ برابری کی بنیاد پر ہے۔ لیکن دنیا جان گئی کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ بین الاقوامی طاقتیں کشمیری عوام کو ان کا یہ جائز حق دلانے کیلئے اس طرح دلچسپی لیتی دکھائی نہیں دیتی جس طرح کے وہ بعض دیگر مسائل پر اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہی ہے اس بارے میں خود کشمیری قیادت کی بھی ناقص حکمت عملی شامل ہے اور بین الاقوامی برادری کے بھارت کے ساتھ تجارتی مفادات بھی تاہم دنیا کے آزاد ممالک میں پاکستان غالباً واحد آزاد ملک ہے جو ہر سرد گرم موسم میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے متحرک ہے، میں دیانت داری سے یہ سمجھتا ہوں کہ چاہے شہید ذوالفقار علی بھٹو ہوں، میاں نواز شریف، بے نظیر بھٹو شہید، یا عمران خان پاکستان کے حکمران کشمیری عوام کیلئے ہمہ وقت کمر بستہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں ان کے اخلاص پر سوال نہیں البتہ شائد وہ کسی بہتر حکمت عملی پر اگر عمل پیرا ہوتے تو کشمیر کی آزادی کی منزل قریب آجاتی اسی طرح عالمی برادری بھی اگر چاہے تو وہ کشمیری عوام کیلئے رائے شماری کا اہتمام کرا کر جنوبی ایشیائی خطے کو جنگ کی کیفیت سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے اور کشمیری قوم بھی سکھ اور چین کی زندگی بسر کرنے کے قابل ہو سکتی ہے بالخصوص اقوام متحدہ پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس ادارے کے وقار کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ اپنی ہی منظور کردہ کشمیر ریزولوشنز پر عملدرآمد کیلئے ایک مرتبہ پھر طریقہ کار وضع کرے اور اپنے اختیارات کو بروئے کار لا کر کشمیر میں رائے شماری کا انعقاد کرے۔ امریکہ کشمیر پاکستان کے ساتھ بھارت کے ایما پر اور اپنی پاور گیم کیلئے ہمیشہ کی طرح کھیل رہا ہے آج ہندو بنیا مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کا قتل عام کر رہا ہے لیکن امریکہ بہادرکا اقوام متحدہ صرف تماشائی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے