Input your search keywords and press Enter.

کشمیر میں بہتے خون کی ندیاں

کشمیر کی زمین جتنی حسین اور خوبصورت ہے اتنی ہی بدقسمت بھی ہے اور کشمیر کے لوگ اس سے بھی کئی گنا اتنے ہی بدقسمت ہیں۔کشمیر کی دھرتی گزشتہ 74 سالوں سے خون سے سیراب ہو رہی ہے۔خون بھی کمزور اور نہتے نوجوانوں ، بچوںاور خواتین حتیٰ کہ دودھ پیتے بچوں سے لے کر 100سال تک کے بوڑھوں تک کوبھی معاف نہیں کیا جاتا۔کشمیریوں کی آہیں، سسکیاں بلکہ اب تو دھائیاں ساتوں آسمان تک جا پہنچی ہیں ۔نہیں اثر ہو رہا تو ہندوستان کے ظالم حکمرانوں پر اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جو اپنے آپ کو سپر طاقتیں کہتے ہیں اور اس کے ساتھ اپنے گلے میں سلامتی کے ضامن کا طوق بھی سجا رکھا ہے۔قتل و غارت گری کا کوئی حساب کتاب نہیں۔معصوم بچوں ، نوجوان لڑکیوں ، لڑکوں کو دن دھاڑے ان کے گھروں کے اندر آکر اٹھا لیا جاتا ہے
کشمیری نوجوان گاجر مولی کی طرح کٹ رہے ہیں لیکن بھارتی حکمرانوں کے سامنے ہار ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ایک دن یا لمحے کے لئے بھی ان کے پاؤں میں کبھی لغزش نہیں آئی۔بڑے سے بڑا ظلم و ستم بھی ان کے آزادی کے نعرے کو کمزور نہیں کر سکا۔وہ جب بھی باہر نکلتے ہیں تو نئے جوش و جذبے کے ساتھ آزادی کا نعرہ الاپتے ہوئے گولیوں کے سامنے سینہ سپر ہو جاتے ہیں ۔شدید ترین کرفیو اور گولیوں کی ترتراہٹ کے باوجود ان کی زبان اور آواز میں کبھی کمزوری دیکھنے کو نہیں ملی۔پہلے سے زیادہ بھرپور اور گونج دار آواز سے نعرے لگاتے ہوئے میدان میں سب بیک آواز یہ نعرہ لگاتے ہوئے آتے ہیں ۔ ’’ہم کیا چاہتے ہیں۔ آزادی‘‘۔ آج انہیں ٹیلیفون ، انٹر نیٹ جیسی کوئی سہولت میسر نہیں۔لیکن اسکے باوجود جہاں سے سورج نکلتا ہے اور جہاں غروب ہوتا ہے وہاں تک بے دست و پا کشمیریوں کی آواز وہ اپنی مدد آپ کے تحت پہنچا رہے ہیں اور ساری دنیا ان کی چیخوں کی آوا زیں سن بھی رہی ہے۔بدقسمتی سے صرف دو طاقتیں یعنی ہندوستانی ظالم حکمران اور جنہیں ہم سپرطاقتیں سمجھ رہے ہیں۔ ہندوستانی غیر قانونی قبضہ کی وجہ سے یہ جنگ 1948ء سے چل رہی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اورانٹرنیشنل ایجنسیوں کے مطابق یکم جنوری 1989ء سے لے کر 31دسمبر 2021ء تک ہندوستانی سیکورٹی فورسزنے 95723معصوم شہریوں کو گولیوں سے بھون ڈالااور ہنستے بستے گھر اجاڑ دئیے۔ مختلف این جی اوز سماجی کارکنوں نے مختلف سروے کئے جس میں کئی بغیر شناخت کی قبریں سامنے آئیں ۔ لاپتہ افراد کی انجمن (Association of parents of disappearedpersons) APDP اور JKCCS(Jammu Kashmir Coalition of Civil Society) انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ہندوستان کے اندر جموں کشمیر کے لوگوں کے لئے کام کرنے والے افراد کی فیڈریشن ہیں، ان سمیت ریاست میں انسانی حقوق کے کمیشن نے ہندوستان کی حکومت سے کہا کہ وہ سرحدی علاقوں میں پائی جانے والی کم از کم 2080 گمنام اجتماعی قبروں کی تحقیقات کرے۔کشمیر میں انسانی حقوق کے ایک گروپ APDPنے کمیشن کو بتایا کہ وہاں 3844بغیر شناخت کی قبریں ہیں ۔پونچھ میں 2717اور راجوڑی میں 1127قبریں ہیں جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ واقع ہیں ۔اس کے جواب میں کمیشن کے سامنے 2080گمنام قبروں کی موجو دگی کو تسلیم کیا گیا۔کمیشن نے حکومت سے کہاکہ وہ لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ سمیت لاپتہ ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے اس کی پہچان کرانے کے لئے چھ ماہ میں مکمل تحقیقات کرائے ۔ بارہ مولہ سے تعلق رکھنے والی 39سالہ طاہرہ بیگم جن کے شوہر 2002ء میں لاپتہ ہو گئے تھے الجزیرہ ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہندوستانی حکومت قبروں کی تحقیقات کرتی ہے تو وہ کنبہ کے افراد کی تکلیف اور کرب کو کم کرے گی۔انہوں نے روتے، چیختے اور دہائیاں دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ان قبروں میں ہمارے کنبے کے افراد دفن بھی ہیں یانہیں ۔کم از کم ہمیں ماتم کرنے کا ٹھکانہ توملے گا۔
طاہر ہ بیگم نے سسکیوں بھری آواز میں کہا کہ خاوند کے لاپتہ ہونے کے بعد مجھے اپنے تین بیٹوں کویتیم خانے میں چھوڑنا پڑا۔جو کسی بھی ماں کے لئے انتہائی مشکل اور تکلیف دہ کام ہوتا ہے۔میرے بچے مجھ سے روز پوچھتے ہیں کہ ہمارے ابو کہاں ہیں۔برسوں سے میں نے کہا ہوا ہے کہ وہ باہر کام پر گئے ہوئے ہیں ۔لیکن اب وہ بڑے اور سمجھدار ہو چکے ہیں ۔میں اب مزید ان کے ساتھ جھوٹ نہیں بول سکتی۔میرا شوہر کام سے گھر آتے ہوئے لاپتہ ہو گیا تھا اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔طاہرہ بیگم نے مزید کہا کہ میں اسے ڈھونڈنے کے لئے ہر جگہ گئی لیکن اس کا نہ پتہ چلا اور نہ ہی چلنا تھا۔وہ تو ظالموں کی گولیوں کا نشانہ بن چکا تھا۔یہ بات پہلے میں شک کی بنیاد پر کہہ رہی تھی جو اب میں یقین کے طور پر کہہ رہی ہوں ۔بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف ہونے والی بغاوت کے نتیجے اور بھارتی کریک ڈاؤن میں تقریباً 70,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔ہندوستان نے اس علاقے میں تقریباً پانچ لاکھ فوجی افسر اور جوان بٹھا رکھے ہیں۔ یکم جنوری1989سے31دسمبر 2020ء تک جو ہندوستان نے جموں و کشمیر میں ظلم ڈھائے ان کی تفصیل کچھ یوں دستیاب ہے جو ٹوٹل لوگ شہید ہوئے پچانوے ہزار، سات سو تئیس (95723) ، جن لوگوں کو قید میں رکھا گیا اور ظلم و تشدد کے بعد شہید کیا گیا، سات ہزار ایک سو پچپن(7155)، جن سویلین کو قید میں ڈالا گیا ایک لاکھ اکسٹھ ہزار تین سو تیس(161,330)، جن عمارتوں اور گھروں کو تباہ و برباد کیا گیا ، ایک لاکھ دس ہزار تین سو تراسی(110,383)، جو خواتین بیوہ ہوئیں ان کی تعداد بائیس ہزار نو سو بائیس(22922) ہے جو بچے یتیم ہونے کے بعد لاوارث ہوئے ان کی تعداد دس لاکھ سات ہزار آٹھ سو سات ہے(107807)۔جن مظلوم خواتین کے ساتھ گینگ ریپ(زیادتی) ہوئی ان کی تعداد گیارہ ہزار دو سو چھبیس ہے (11226)۔
انشا ء اللہ اگلے کالم میں شہید ہونے والوں کی تحصیل اور ضلع کی پوری تفصیل کے ساتھ قارئین تک معلومات پہنچائی جائے گی۔فروری کا مہینہ آتے ہی نہ صرف کشمیر بلکہ پورے پاکستان کے ہر فرد کے اندر ایک عجیب قسم کا جذبہ ابھر آتا ہے۔پاکستانی کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار ِ یکجہتی کرتے ہوئے پورے ملک میں چھٹی کر کے سارا دن اقوامِ متحدہ سمیت تمام عالمی طاقتوں کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے ہندوستان کے ظلم و ستم اور جبر و تشدد کی طرف توجہ دلاتے ہیں ۔ خاص طور پر اقوام متحدہ کو اپنی ذمہ داریوں پر پورا اترنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے