Input your search keywords and press Enter.

بدلتے عالمی حالات اور کشمیر

ڈاکٹر احمدسلیم
تلخ حقیقت یہی ہے کہ دنیا میں عملی طور ہر ”مسلم امہ“ کا تصور معدوم ہو چکا ہے۔ فلسطین ہو یا کشمیر، عالم اسلام کی اکثر حکومتیں کہیں ذاتی مفادات کے لیے، کہیں یہودیوں اور مغربی دنیا کے زیر اثر اپنے اپنے مسائل میں الجھی ہوئی ہیں۔ انکو دوسرے اسلامی ممالک دشمن اور یہود و نصاریٰ دوست نظر آ رہے ہیں۔ اسی لیے مودی سرکار بھی فخریہ کہتی ہے کہ پاکستان کے علاوہ تمام اسلامی دنیا سے اسکی دوستی ہے۔ بقول مودی سرکار کے عالم اسلام کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کشمیر کی وادی میں ہر آٹھ کشمیریوں کے لیے ایک بھارتی فوجی تعینات ہو، کشمیری بچوں پر پیلٹ گنز یا بھارت کی دہشت گرد حکومت کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر کلسٹر بم استعمال ہو رہے ہوں۔ سچ کہیں تو مودی سرکار کایہ دعویٰ کسی نہ کسی حد د تک درست بھی ہے۔ پاکستان کے علاوہ باقی اسلامی دنیا تو کشمیری مسلمانوں کے لیے کھل کر زبانی احتجاج بھی نہیں کرتی۔
تاج برطانیہ(ایسٹ انڈیا کمپنی) نے 16 مارچ 1846 کو کشمیر اور اس میں بسنے والے لاکھوں مسلمانوں کو 750000 روپے میں راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا گویا بھیڑ بکریاں ہوں۔1931 میں کشمیری مسلمان پہلی مرتبہ اس ظلم کے خلاف متحد ہوئے اور آزادی کے لیے آواز بلند کی۔ اس وقت کے کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ ان کی تحریک کو کچلنے کے لیے ہزاروں کشمیری زخمی اور شہید کر دیے تھے۔ اس ظلم کی تحقیقات ”گلینسی کمیشن“ نے کیں جس کی رپوٹ (شائع شدہ اپریل 1932) میں تسلیم کیا گیا کہ اس وادی کی اکثریت آبادی یعنی مسلمانوں پر بے جا اور بے پناہ تشدد کیا جاتا ہے اوروہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ تقسیم ہند کا وقت آیا تو جولائی 1946 میں کشمیر کے مہاراجہ نے وعدہ کیا کہ کشمیر کی عوام (مسلمان) اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔ جنوری 1947 میں ہونے والے الیکشن میں کشمیر کی عوام نے نے 21 میں سے 19 نشستیں مسلم کانفرنس کو دے کر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ 30 ستمبر 1947 کو نہرو نے کہا کہ جموںکشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ ریفرنڈم سے کرنے کا حق دیا جاناچاہئیے۔ لیکن 26 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ کشمیر نے، کشمیری عوام کی امنگوں کے خلاف اور بھارت نے اقوام متحدہ میں اپنے وعدے توڑتے ہوئے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کا غیر اخلاقی اور غیر قانونی معاہدہ کر لیا اور بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہو گئیں۔ قائد اعظم نے فوری طور پر افواج پاکستان کو کشمیر میں داخل ہو کر کشمیری عوام کی مدد کرنے کا حکم جاری کیا لیکن اس وقت کے افواج پاکستان کے سربراہ جنرل ڈگلس گریسی نے سازش کے تحت اپنے سپریم کمانڈریہ حکم ماننے سے انکار کر دیا۔
جب کشمیری عوام اور قبائل نے بھارتی افواج کا مقابلہ شروع کیا تو 31 دسمبر کو بھارت خود کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ لے گیا، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ میں قراردادیں (نمبر 38,39,47 )منظور کی گئیں، جن میں کہا گیا کہ کشمیر ی عوام کو حق خود ارادیت دیا جائے۔ بھارت نے بظاہر ان سب قراردادوں کو تسلیم تو کیا لیکن بہانے بازی کرتا رہا اور کسی بھی قرار داد پر عمل نہیں کیا۔ اسکے بعد معاہدہ تاشقند اورشملہ معاہدہ میں بھی کہا گیا کہ بھارت اور پاکستان کشمیر کا مسئلہ عوام کی امنگوں کے مطابق حل کریں گے۔ لیکن 5 اگست 2019 کی صبح چھ بجے بھارتی حکومت نے کشمیر میں کرفیو لاگو کر دیا اور اسکے بعد ایک ”سیاہ صدارتی فرمان“ کے ذریعے کشمیریوں کو جو تھوڑے بہت حقوق حاصل تھے (علامتی ہی سہی) وہ بھی ان سے چھین لیے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نے اس سلسلے میں نہ تو اپنی اسمبلی سے کوئی بل پاس کروانا ضروری سمجھا اور نہ ہی کشمیر کے لوگو ں (حتیٰ کہ کٹھ پتلی کشمیری حکومت) سے کوئی رائے لینے کی ضرورت محسوس کی۔ مودی سرکار تو ویسے بھی کشمیریوں سمیت بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کو انسان ہی نہیں سمجھتی۔ آج کے بھارت کا نظریہ ہے کہ بھارت میںرہنے والی اقلیتوں خاص طورپر مسلمانوں کے نہ تو کوئی انسانی حقوق ہیں اور نہ کسی غیر ہندو کو بھارت میں رہنے کا حق حاصل ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں کی ہماری خارجہ پالیسی، اور موجودہ معاشی اور عالمی حالات کا نتیجہ یہ ہے کہ سکیورٹی کونسل کے ممبران سے کشمیر یوں کے حق میں ووٹ تو دور کی بات ہے.
اب ہم عالم اسلام سے بھی اس سلسلے میں کسی فوری مدد یا احتجاج کی توقع بھی نہیں کر سکتے۔ جو بھی کرنا ہے ہم نے خود کرنا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں خود یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم نے کشمیر کو صرف پاکستان کے اندر سیاست کرنے کے لیے استعمال کرنا ہے یا پھر کشمیر واقعی پاکستان کے بقا کی جنگ ہے؟ اگر یہ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے تو ضروری ہے .
کہ اقوام متحدہ اور فارن آفس میں برسوں سے بیٹھے لوگ جو اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہیں، سے جان چھڑوا کر پروفیشنل اور متحرک لوگوں کو ذمہ داریاں دی جائیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ ”ماہرین“ پر مشتمل تھنک ٹینک تشکیل دینے پڑیں گے جو جذباتی ٹوئٹ اور پوائنٹ سکورنگ کی بجائے خاموش رہ کر آنے والے دس پندرہ برس کے لیے مختصر اور طویل مدت کے لائحہ عمل تیار کریں تاکہ پا کستان ٹوئٹر اور پریس کانفرنسوں کی دنیا سے باہر نکل کر ”عملی اقدامات“ کے ذریعے سے عالمی برادری کو یہ باور کروائے کہ یہ مسئلہ عالمی امن کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے اور عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اور سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔
دوسرا موجودہ علمی حالات میں اب ہمیں اپنے یعنی پاکستان کے حق میں ووٹ لینے کی کوشش کی بجائے کشمیر اور کشمیر کے مظلوم عوام کے لیے مدد مانگنی ہو گی۔دنیا کے با اثر ممالک کی حکومتوں کی رائے کشمیری عوام کے حق میں کرنے کے لیے ہم جس طاقت کو استعمال کر سکتے ہیں وہ ان ممالک کے عوام ہیں۔ ان ممالک میں اشتہارات، مظاہروں سے لے کر، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، ٹالک شوز اور سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا (ان ممالک کے) پر ”باقاعدہ کمپین“ چلوانی پڑے گی۔ ساتھ ہی بھارت کی اکثر ریاستوں میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگوں پر ہونے والے مظالم اور جبر کو بھی تمام دنیا کے سامنے لانا ضروری اور اہم ہے۔ مستقل ممبران میں سے فرانس، اور برطانیہ اور غیر مستقل ممبران میں سے کم از کم آٹھ غیر مسلم ممبر ممالک ایسے ہیں جن کی عوام اس سلسلے میں متحرک ہو سکتے ہیں اور ان ممالک کی حکومتیں عوامی دباﺅ کے خلاف نہیں جا سکتیں۔ (مسلمان ممبران سے مجھے کوئی امید نہیں)۔ اگر ہم اس میں کامیاب ہو جائیں تو بھارت کے خلاف اقوام متحدہ کے چارٹر کے چیپٹر ۷ کے آرٹیکل 83 اور93 کی خلاف ورزی پر اور جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 4،94 اور65 کے تحت کاروائی کروائی جا سکتی ہے۔ اگر ہم 70 برس پرانے نعروں سے باہر نکل کر، موجودہ زمینی حقائق کے مطابق لڑے تو پانچ سے دس برس میں جیت سکتے ہیں، بصورت دیگر جذباتی تقاریر کرنے والے پاکستان کی اسمبلیوں میں تو پہنچتے رہیں گے، کشمیر کی آزادی کا دن کبھی نہیں دیکھ سکیں گے۔(اللہ نہ کرے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے