حزب اختلاف کے لیڈر نے کہا کہ پوری دنیا اور دیگر لیڈران اگر دہلی کے علاوہ ہندوستان کی اور کسی ریاست کو جانتے ہیں وہ تاریخی پس منظر اور خوبصورتی کے لحاظ سے صرف اور صرف کشمیر ہے۔
اسلام ٹائمز۔ کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر اور بھارتی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے سربراہ غلام نبی آزاد نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ فوری بحال کرنے اور اسمبلی انتخابات منعقد کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی اور جموں و کشمیر کی تقسیم سے نہ صرف کشمیر بلکہ جموں اور لداخ کے لوگ بھی ناخوش ہیں۔ غلام نبی آزاد نے جموں سرینگر شاہراہ کی تعمیر و تجدید اور ریاست جموں و کشمیر میں 4G انٹرنیٹ کی بحالی بھی وکالت کی۔ بھارتی پارلیمنٹ میں غلام نبی آزاد نے صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے جموں و کشمیر کے کئی مسائل اٹھاتے ہوئے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے، اسمبلی انتخابات منعقد کرانے وغیرہ اہم ترین امور ایوان کے سامنے رکھے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی اور جموں و کشمیر کی تقسیم سے کشمیر بلکہ جموں اور لداخ کے لوگ بھی ناخوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ہزاروں بار سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے علاؤہ سینئر وزراء اور اس وقت وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو ایوان زیریں اور ایوان بالا سے خطاب کرتے ہوئے سنا ہے لیکن ان میں سے یا بی جے پی کے کسی رہنما نے جموں کشمیر کو تقسیم کرنے کے بارے میں اپنے منشور میں ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا ہے۔
حزب اختلاف کے لیڈر نے مزید کہا کہ پوری دنیا اور دیگر لیڈران اگر دہلی کے علاوہ ہندوستان کی اور کسی ریاست کو جانتے ہیں وہ تاریخی پس منظر اور خوبصورتی کے لحاظ سے صرف اور صرف کشمیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی وزیر خارجہ یا ریاست کا سربراہ جو ہندوستان کا دورہ کرتا ہے وہ کشمیر کو جانتا ہے اور ایسا کوئی نہیں ہوگا جس کے علم میں یہ نہیں ہوگا مگر اب میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جموں و کشمیر ریاست کو دو مرکزی علاقوں میں کیوں تقسیم کیا گیا، یہاں تک کہ اب وہاں امن و امان میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت کے دوران جموں کشمیر میں ترقیاتی کام سب سے اچھے تھے جبکہ ابھی تک وہاں پر تعمیر و ترقیاتی کا کوئی کام نہیں ہوا ہے جبکہ صحت، تعلیم اور دیگر کے پیرا میٹرز بھی بد سے بتر ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ گزشتہ 2 برسوں سے وہاں پر تعلیمی ادارے بند پڑے ہوئے ہیں اور پھر وبائی بیماری کورونا وائرس کے بعد جب حکومت نے آن لائن کلاسز شروع کئے تو تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ دستیاب نہیں ہے، کیا وہاں کے لوگ ان ہی چیزوں سے خوش اور مطمئن نظر آئے گے۔
