متحدہ برصغیر مقاومتی بلاک
کشمیر میں آئے روز نہتے مسلمانوں کا قتل عام اور تسلسل کے ساتھ کرفیو نیز خواتین کی عصمت دری جیسے واقعات معمول بن چکے ہیں اور اس امر کی تصدیق میں ذرہ برابر بھی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ ان سارے واقعات کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کی کھلی ملی بھگت شامل ہے اور کشمیر و انڈیا میں موجودہ مظالم کی نوعیت بالکل فلسطین میں اسرائیلی مظالم کے مشابہ ہے. حتی بعض رپورٹس کے مطابق برصغیر میں مسلمانوں کے خلاف ہر ہونے والی سازش اور پلاننگ میں موساد کے آفیسرز شامل ہوتے ہیں اور فوجی ٹریننگ، جدید اسلحہ خریداری نیز پالیسی سازی تک موساد شامل ہے. ایسی صورتحال میں بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کشمیری اور ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف کتنی بڑی گھناؤنی و خطرناک سازش اپنے اجرائی مراحل میں داخل ہو چکی ہے.
لہذا ایسی سازش کو فقط متحدہ برصغیر مقاومتی بلاک سے ہی پسپا کیا جا سکتا ہے. مذکورہ امر کے لیے ضروری ہے کہ کشمیری، ہندوستانی، بنگالی اور پاکستانی مسلمانوں پر مشتمل ایک مقاومتی بلاک تشکیل دیا جائے جو عالمی فلسطینی، لبنانی اور یمنی مقاومت سے الھام لیتے ہوئے نیز مقاومت سے گہرا رابطہ رکھتے ہوئے اپنے اصول و قواعد بنائے اور ظالموں کا راستہ روکنے کے لیے وارد عمل ہو. سابقہ تاریخ گواہ ہے کہ صرف مذاکرات کی لولی پاپ سے کشمیر اور ہندوستانی مسلمانوں کا مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے جب تک مقاومت کا موسائی گھونسہ انکے فرعونی دہانوں پر نہ لگے یہ شیطانی ہتھکنڈوں سے باز آنے والے نہیں.
