وزیر اعظم عمران خان کی کوٹلی میں حالیہ تقریر نے جہاں پاکستان کے بعض سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا کردی ہے وہیں لائن آف کنٹرول کے آر پار رہنے والے بیشتر کشمیریوں کی یہ امید بھی بندھ گئی کہ مکمل آزادی حاصل کرنے میں پاکستان کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔عمران خان نے پانچ فروری کو کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی کے موقع پر کوٹلی جلسے میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جب کشمیری پاکستان کے ساتھ مل جائیں گے اس کے فورا بعد انہیں یہ فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا کہ وہ آزاد ہونا چاہیے گے یا پاکستان کے ساتھ رہنا پسند کریں گے۔اس اعلان پر پاکستانی میڈیا پر بیشتر مبصرین نے تبصرہ کیا کہ وزیر اعظم نے اپنے آئین کا مطالعہ کئے بغیر یہ فیصلہ کر کے کشمیر پر پاکستان کی پوزیشن کو مزید کمزور کیا ہے اور ایسے وقت اس بیان سے گریز کرنا چاہیے تھا جب بھارت نے متنازع جموں و کشمیر کو یونین ٹریٹری بنانے کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو حاصل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس سلسلے میں بیرونی ملکوں میں آباد کشمیریوں کی مدد سے افراتفری پیدا کرنے کے اپنے منصوبے پر سرعت سے کام بھی کر رہا ہے۔ اس کا ذکر یورپی ڈس انفولیب کے حالیہ انکشافات میں بھی کیا گیا ہے۔جموں وکشمیر میں گو کہ پاکستان اور یہاں کے میڈیا کی خبروں کو زیادہ تر بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے اور سوشل میڈیا کی سخت نگرانی کے باعث لوگ خود بھی پاکستان سے آنے والی خبروں کو دیکھنے یا رائے دینے سے گریز کرتے ہیں۔عمران خان کے حالیہ اعلان پر اندرونی طور پر اتنی خوشی ضرور محسوس کی گئی کہ انہوں نے کوٹلی میں آ کر کشمیر کے حقوق پر کھل کر بات کی اور ان چند لوگوں کے منہ بند کر دیئے جو پاکستان کی مدد یا اخلاقی حمایت کو مخلصانہ نہیں سمجھتے ہیں۔بعض آئینی ماہرین کا خیال ہے کہ عمران خان نے آئین کا لحاظ کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق میں بات کی جو کہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد کشمیریوں کو یہ حق ہوگا کہ وہ بعد میں کون سا راستہ اختیار کریں گے۔ مگر ماہر آئین شق257 کی تشریح کرتے ہوئے مزید کہتے ہیں کہ الحاق کے بعد کشمیریوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ کیا وہ پاکستان کیساتھ ضم ہو کر ایک اور صوبہ بننا چاہتے ہیں یا خصوصی حیثیت حاصل کر کے پاکستان کے زیر انتظام علاقے کی شکل میں بدستور رہنا چاہیں گے۔ ان کے خیال میں مکمل آزادی کا کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ اس کا تصور ہی پاکستانی آئین میں کہیں نظر آتا ہے۔اگر اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق قراردادوں پر نظر ڈالیں گے تو درجن سے زائد قرار دادوں میں استصواب رائے کروانے کا حق دیا گیا تھا اور جس کے لیے پانچ رکنی ٹیم بھی تشکیل دی گئی تھی لیکن اس وقت چونکہ بھارت پاکستان دو قومی نظریے کے تحت منقسم ہوگئے تھے اور دونوں جموں وکشمیر پر اپنا حق جتا رہے تھے یقینی طور پر مسلمان ریاست کی حیثیت سے اسے پاکستان میں ضم ہونا تھا لیکن مہاراجہ ہری سنگھ نے اس کو آزاد ریاست بنانے کا ارادہ ظاہر کیا حالانکہ گلگت، بلتستان اور پونچھ میں مہاراجہ کیخلاف بغاوت پہلے ہی شروع ہوچکی تھی۔پنڈت نہرو نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو کشمیر بھیج کر مہاراجہ کو بھارت سے الحاق کرنے پر آمادہ کروایا، ساتھ ہی کشمیری رہنما شیخ عبداللہ کو رہا کر کے الحاق کی حمایت میں سامنے لایا گیا تھا جو اس وقت کشمیریوں کی واحد آواز تھی۔مورخ السٹر لیمب اپنی کتاب کشمیر دا ڈسپیوٹڈ لیگیسی میں لکھتے ہیں کہ برطانوی سامراج نے اپنے انڈیپینڈینس ایکٹ میں اس کو واضح کر دیا تھا کہ جہاں مسلم علاقے پاکستان کا حصہ بنیں گے اور ہندو علاقے بھارت میں شامل ہوں گے وہیں563 ایسی ریاستوں کے بارے میں جو راجے مہاراجوں کی مملکتیں تھیں لکھا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے آزاد رہنے کی حق دار بھی ہوں گی۔بھارتی رہنماؤں نے مانٹ بیٹن کیساتھ مل کر اس ایکٹ کی نفی کرتے ہوئے مہاراجہ ہری سنگھ کے آزاد رہنے کے فیصلے کو واپس لینے پر مجبور کردیا۔ بھارت کی حکومت نے اب مہاراجہ کے الحاق کو بھی بلائے طاق رکھ کر نہ صرف جموں و کشمیر کو بھارت میں ضم کیا بلکہ کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے خود اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا ہے جو بھارت کے کہنے پر ہی اقوام متحدہ نے منظور کروائی تھیں۔البتہ اب تک اقوام متحدہ نے اس پر ایک بیان بھی جاری نہیں کیا جس پر عالمی برادری کو متحرک کیا جاسکتا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے خود اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔اچھا ہوتا پہلے بھارت کو5اگست2019والا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا جاتا،1947کی پوزیشن پر جموں و کشمیر کو واپس لایا جاتا، پھر اقوام متحدہ کو استصواب رائے کرنے کے اپنے وعدے پر کاربند کیا جاتا اور لوگوں کو اپنا مستقبل متعین کرنے کا حق دیا جاتا اور پھر کشمیریوں سے پوچھا جاتا کہ وہ پاکستان کیساتھ الحاق کے حق میں ہیں یا ادغام کے۔وقت، مطالعہ اور اہمیت جاننے سے پہلے کنفیوژن پیدا کرنا کشمیر جیسے متنازع مسئلے کو مزید سنگین بنا سکتا ہے جس کا بہرحال بھارت فائدہ اُٹھا رہا ہے۔
عمران خان اور کشمیر کی آزادی
