تنویر علی
ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے کہا ہے کہ پاکستان کی جموں و کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں کو مسلسل وحشیانہ فوجی محاصرے کا سامنا ہے، رواں سال فروری میں جعلی سرچ آپریشن میں مزید 6 کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، پاکستان ان کشمیریوں کو شہید کرنے کی مذمت کرتا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں آسیہ اندرابی شبیر شاہ یاسین ملک سمیت کئی رہنما مسلسل قید ہیں، پاکستان کو انکی جبری نظر بندی پر تشویش ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھارتی حکومت سے کشمیری قیادت اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سید علی گیلانی کی کشمیر کاذ کیلئے گراں قدر خدمات ہیں، پاکستان ان خدمات پر علی گیلانی کو اعلیٰ سول اعزاز دے چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطہ معمول میں ہوتا رہتا ہے اس رابطے کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، معصوم کشمیریوں کی جان بچانے کے لئے یہ معاہدہ اہم ہے ۔ پاکستان کی جموں و کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ کشمیر اقوام متحدہ قراردادوں کے مطابق حل ہو، پانچ اگست کے اقدام پر اقوام متحدہ کے تین اجلاس ہوئے۔ پاکستان کی مذاکرات کی میز پر پوزیشن واضح ہے کشمیر سمیت تمام معاملات پر بات ہونی چاہیے۔ بھارت کے اندر بھی اقلیتوں کو خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن عمل میں گذشتہ سال تین اہم پیش رفت ہوئیں، جن میں طالبان افغان قیادت طالبان امریکہ مفاہمت اور انٹرا افغان مذاکرات شامل ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ان پیش رفت کو بنیاد بنا کر افغان امن عمل آگے بڑھے۔
زاہد حفیظ نے کہا کہ حکومت پاکستان معاشی میدان میں کام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں سب سے بڑا پراجیکٹ سی پیک اور گوادر پورٹ ہیں۔
