Input your search keywords and press Enter.

خواتین کے عالمی دن پر مقبوضہ کشمیر میں خواتین پر بھارتی مظالم کی چشم کشا رپورٹ

عالمی اداروں اور قیادتوں کے عملی اقدامات کے بغیر بھارتی انتہاء پسندی روکنا مشکل ہے

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے جموں و کشمیر میں جنگی ہتھیار کے طور پر خواتین کی بے حرمتی کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ گزشتہ 30 سال کے دوران بھارتی فوجی کارروائیوں میں 20 ہزار خواتین بیوہ ہوئیں‘ گیارہ ہزار 336 خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور 20 سال میں 674 خواتین شہید ہوئیں۔ برطانوی ہائی کمشنر ایلیکس ڈبلیو ایلس نے بھارت میں تعیناتی کے بعد گزشتہ روز دہلی پہنچنے کے بعد اپنی پہلی میڈیا بریفنگ میں کہا کہ برطانوی حکومت جموں و کشمیر کی زمینی صورتحال کا تجزیہ کرنے کی خواہاں ہے۔ دوسری جانب حریت کانفرنس نے اس امر کا تقاضا کیا ہے کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کی بھارت سے ذمہ داری پوری کرائی جائے۔ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ کشمیر میں گزشتہ 582 روز سے جاری لاک ڈائون اور فوجی محاصرے کے دوران کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے ان پر مظالم کے کسی بھی ہتھکنڈہ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جارہی۔ گزشتہ روز بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام کے تحت پروفیسر ڈاکٹر عبدالباری کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ سری نگر میں کرونا وائرس کا بہانہ بنا کر بھارتی انتظامیہ نے شب معراج کی مجالس پر پابندی عائد کر دی ہے۔

گزشتہ روز خواتین کے عالمی دن کے موقع پر انسانی حقوق کی عالمی اور علاقائی تنظیموں اور مختلف این جی اوز کی جانب سے خواتین کے حقوق اور انکی شہری‘ انسانی آزادیوں کیلئے دنیا بھر میں اور اپنی اپنی سطح پر ریلیوں‘ جلسوں‘ جلوسوں اور مظاہروں کا انعقاد کرکے خواتین کے حقوق کو اجاگر کیا گیا اور بنیادی انسانی حقوق میں انہیں برابری کا درجہ دینے کا تقاضا کیا گیا۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی اس حوالے سے خواتین تنظیموں اور این جی اوز نے ریلیاں نکالیں اور خواتین کے مساوی حقوق کیلئے مظاہرے کئے۔ اسی طرح بھارت میں بھی جہاں بالخصوص مسلمان اور دوسری اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو اچھوت اور دلت سے بھی نیچے کا درجہ دیا جاتا ہے‘ مختلف تنظیموں کی جانب سے خواتین کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی گئی مگر انسانی حقوق کی کسی عالمی اور علاقائی تنظیم اور کسی این جی او کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ مقبوضہ وادی میں بھارتی فوجوں کے جبر وتسلط اور جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کیلئے آواز اٹھائے اور ان پر بھارتی جبر کا دراز سلسلہ ختم کرانے کیلئے عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں کو متوجہ کرے۔ بھارت میں ارون دھتی رائے جیسی خواتین دانشوروں کی جانب سے تو بے شک مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم بے نقاب کرنے کیلئے عالمی اور مقامی میڈیا میں آواز اٹھائی جاتی ہے مگر خواتین کے حقوق کا پراپیگنڈا کرنیوالی کسی عالمی تنظیم یا کسی این جی او کو بھارتی فوجوں کے مظالم اور جنسی زیادتیوں کا نشانہ بننے والی کشمیری اور بھارتی اقلیتوں کی خواتین کیلئے آواز اٹھانے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی۔ کشمیری حریت رہنما یٰسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے گزشتہ روز یقیناً اسی تناظر میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے جاری کردہ بیان میں باور کرایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں عورت ہونا سب سے بڑا جہاد ہے۔ انکی یہ بات انسانی حقوق کی چیمپئن عالمی تنظیموں کیلئے لمحۂ فکریہ ہونی چاہیے کہ کشمیر میں ایک ماں کا صرف اپنے بیٹے کو دفنانے کا حق ہے جبکہ مجموعی طور پر کشمیریوں کو انسان ہونے کا حق ہی حاصل نہیں‘ عورت تو بہت دور کی بات ہے۔

انسانی حقوق کی جن تنظیموں اور این جی اوز کو محض پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کا پراپیگنڈا کرنے کا مرض لاحق ہے جو خواتین کے حقوق سے متعلق شعائر اسلامی کو رگیدنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتیں‘ ان کیلئے مقبوضہ کشمیر کے انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی گزشتہ روز کی رپورٹ چشم کشا ہونی چاہیے جس میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوجی محاصرے کے دوران کشمیری خواتین کے ساتھ روا رکھی گئی زیادتیوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ کشمیری خواتین بھارتی فوجیوں ہی نہیں‘ ہندو پنڈتوں کی زیادتیوں کا بھی نشانہ بنتی رہتی ہیں۔ دو سال قبل ایک مندر میں جس بہیمانہ طریقے سے کشمیر کی ایک بیٹی کو لے جا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے بے رحمی کے ساتھ قتل کیا گیا اس پر خواتین کے حقوق کا واویلا کرنیوالی انسانی حقوق کی کتنی عالمی اور علاقائی تنظیموں کے دل پسیجے؟ بھارتی بی جے پی کی مودی سرکار کے ایک اہم رکن نے تو مقبوضہ وادی میں مظالم توڑنے والی بھارتی فوجوں کی جانب سے کشمیری خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا ان کا حق قرار دے دیا گیا تھا۔

اس تناظر میں تو مودی سرکار اپنے زیرتسلط کشمیر میں پوری انسانیت سے ہی برسر پیکار ہے جہاں انسانی حقوق کے کسی عالمی قانون اور یواین سلامتی کونسل کی قراردادوں تک کی پاسداری نہیں کی جاتی اور کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق بھارتی آئین کی دفعات 370‘ اور 35اے پر بھی بھارتی پارلیمنٹ سے کلہاڑا چلوا دیا گیا ہے۔ اس طرح انسانی حقوق کی جتنی خلاف ورزی بھارت کے ہاتھوں مقبوضہ جموں و کشمیر میں کی جارہی ہے‘ اسکی دنیا میں کہیں کوئی مثال موجود نہیں۔ جبر کی اس فضا میں اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے اور عالمی اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے والے کشمیری باشندوں بالخصوص خواتین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار سے بھی آگے قدم بڑھ کر انہیں بھارتی جبر و تسلط سے آزاد کرانے کا عملیت پسندی کے ساتھ چارہ کیا جانا چاہیے جس میں کشمیریوں کے استصواب کے حق کیلئے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر بھارت سے عمل کرانا مقدم رکھا جائے۔ اگر عالمی برادری اس معاملہ میں محض زبانی جمع خرچ سے کام لے گی تو توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والے ہندو انتہاء پسند بھارت کے ہاتھوں کشمیری عوام بالخصوص خواتین اور دوسری اقلیتوں کے تحفظ اور مجموعی طور پر توقیر انسانیت کی کوئی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے