پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے غیرقانونی قبضے سے شہری آبادی کو 3.5 بلین ڈالر کا بھاری معاشی نقصان پہنچا ہے،کشمیری کسانوں کو زمینوں تک رسائی نہ ہونے سے شدید غذائی قلت کا سامنا ہے،بھارتی فوج کے جابرانہ اور جارحانہ اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے گزشتہ روز سلامتی کونسل میں کشیدگی اور غذائی تحفظ کے مابین لنک پر بحث میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کسانوں کو اپنی زمینوں تک رسائی نہ ہونے سے شدید غذائی قلت کا سامنا ہے،کشمیری کسانوں کے سیب اور زرعی مصنوعات مقامی مارکیٹوں تک پہنچنے سے پہلے ہی راستوں میں گل سڑ جا تی ہیں جن پر ان کسانوں کی سالانہ آمدنی کا دارومدار ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات 1970 کی اقوام متحدہ کی اس قرارداد کے بھی منافی ہیں جس کے تحت غیرملکی قبضے میں زندگی بسر کرنے والے افراد کو ان کے قدرتی وسائل اور اقتصادی سرگرمیوں تک موثر کنٹرول کی ضمانت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد پر مذاکرات اور ڈپلومیسی کے زریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی قرارداد کی حمایت کرتا ہے ، مندوب نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مسلسل اس بات پر زور دیاہے کہ افغان مسئلہ کو فوجی طاقت سے نہیں سیاسی مذاکرات کے زریعے حل کیا جانا چاہیے، پاکستان نے امن اور بحالی کے عمل کی مکمل حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں ترقی کے لیے ایک بلین ڈالرز کا عزم کیا ہے،انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ کے چیلنج سے نمٹنے میں ناکامی سے عالمی اور قومی سطح پر پہلے سے موجود عدم مساوات ، شدید بھوک ، فاقہ کشی ، محرومی، غربت اور تنازع میں مزید اضافہ ہو گا لہذا ہمیں بھوک اور غربت کی کی وجوہات کوختم کرنا ہوگا ۔
کشمیر پر بھارتی قبضے سے شہری آبادی کو 3.5بلین ڈالر نقصان پہنچا، پاکستان
