موجودہ حکومت نے بالآخر بلی تھیلے سے باہر نکال ہی دی۔ اب اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کیلئے ترمیمی بل پیش کیا جائے گا۔ جس کے ساتھ وہاں انتخابی اصلاحات بھی لائی جائیں گی۔ یوں 72 سالہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان جس نکتہ نظرکی مؤقف کی حمایت کرتا چلا آرہا تھا اس سے دستبردار ہوجائے گا یا اسے ایک بوجھ سمجھ کر کمر سے اتار پھینکے گا۔ ساحر لدھیانوی کے ایسے ہی کسی موقع کیلئے کیا خوبصورت شعر کہا تھا؎
وہ افسانہ جسے انجام تک پہنچا نہیں سکتے اسے ایک خوبصورت موڑ دے کہ چھوڑنا اچھا
سو اب یہی ہوتا نظر آرہا ہے۔ اب پاکستان کس منہ سے بھارت سے احتجاج کرے گا کہ اس نے براہ راست لداخ کو مرکز کی تحویل میں2کہ جموں کشمیر کو صوبے (ریاست )کا درجہ دے دیا ہے۔ اب تقریباً ایسا ہی کام حکومت پاکستان کررہی ہے۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بنا کر وہ آزادکشمیر کو اپنی ملحق ریاست بنا کر دنیا کو کیا پیغام دے رہی ہے۔ جو کچھ بھارت کے لئے ناجائز تھا وہ پاکستان کیلئے جائز کیسے ہوگیا؟ 1947ء سے آج تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے تمام مذاکرات میں مسئلہ کشمیر سے مراد لداخ جموں، کشمیر اور گلگت بلتستان ہے۔ چودھری غلام عباس مرحوم قائدمسلم کانفرنس نے گلگت بلتستان کو عبوری اقدامات کے تحت عارضی طور پر حکومت پاکستان کے سپرد کیا تھا تاکہ وہاں کے انتظامی معاملات کو سنبھال سکے۔ جو اس وقت کی آزاد کشمیر کی کمزور حکومت سنبھال نہیں سکتی تھی۔ یہ تمام معاملات معاہدہ کراچی میں درج ہیں۔ کیا ہمارے موجودہ حکمران اور سیاسی وزیر و مشیر برائے کشمیر اس معاہدے سے لاعلم ہیں۔ اگر 72 برس سے گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق سے ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا تو اس کی ذمہ داری پاکستانی حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ بنا کسی آئینی ترمیم کے وہاں کے عوام کو ان کے بنیادی آئینی و سیاسی حقوق دے کر وہاں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع کیا جاسکتا تھا۔ مگر جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ وہاں کے عوام میں مسئلہ کشمیر سے بے رغبتی اور علیحدگی کے خیالات پیدا ہوگئے اب وہ کھلم کھلا خود کو مسئلہ کشمیر کا حصہ تسلیم نہیں کرتے۔ اس تمام پریکٹس کا سب سے برا اثر مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کی تحریک آزادی پر پڑ رہا ہے۔
کشمیری مجاہدین خواہ الحاق پاکستان کے حامی ہوں یا خودمختار کشمیر کے داعی۔ ان سب کے نزدیک گلگت بلتستان کشمیر کا آئینی حصہ ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ تک میں تسلیم شد ہے ۔وہ مسئلہ کشمیر کے حل سے قبل کشمیر کی آئینی و جغرافیائی حیثیت میں کسی تبدیلی کو قبول نہیں کریں گے۔ مگر موجودہ حالات میں لگ رہا ہے کہ عالمی سطح پر رچائی گئی تقسیم کشمیر کی سازش کو عملی جامہ پہنایا جانے کا وقت قریب آگیا ہے۔ اگر یہی سب کچھ کرنا ضروری تھا تو پھر سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے چناب فارمولے میں کیا برائی تھی۔ اس طرح کم از کم کشمیریوں کی اشک شوئی تو ہوتی۔ انہیں یہ تسلی تو دی جاسکتی تھی کہ مسلم اکثریتی کشمیری علاقے پاکستان کے پاس آرہے ہیں اور لداخ کا غیر مسلم بودھ اکثریتی علاقہ بھارت کو مل جائے گا جس میں جموں کے ہندو اکثریتی تھوڑا علاقہ بھی شامل ہوگا۔ اس وقت تو یہ حالت ہے کہ بھارت نے کشمیر پر اپنے غیرقانونی غیر آئینی قبضے کو ببانگ دہل جائز قرار دے کر پوری ریاست کو ہی ہڑپ کرلیا ہے اور ہم منہ دیکھتے رہ گئے ہیں۔ شاید اس صدمے میں یا غصے میں ہم اس کے جواب میںاب ایسی حرکات کررہے ہیں جن کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔ اس لئے دروغ برگردن راوی ، گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے بعد آزادکشمیر کو بھی کسی وقت مرکزی دارالحکومت کا ملحقہ علاقہ بنا کر ساتھ ملا لیا جائے گا۔ یوں 71 سالہ پرانا مسئلہ کشمیر عالمی سامراج کی مرضی و منشا ء کے تحت بھارت کی خواہش کے مطابق حل ہوجائے گا۔ لاکھوں کشمیریوں نے شاید اسی تقسیم کشمیر کیلئے اپنی جان و مال کی قربانی دی تھی۔ اگر یہی کچھ کرنا مقصود تھا تو پھر یہ لاکھوں جوانوں کو خاک کا پیوند کیوں بنایا گیا، ہزاروں عصمتوں کی قربانی کیوں دی گئی، لاکھوں عورتیں بیوہ، لاکھوں بچے یتیم کیوں کئے گئے؟ آج بھی بھارت کشمیر میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ روزانہ کئی مجاہد جوانان رعناشہید ہورہے ہیں اپنے لہو میں نہا رہے ہیں۔ ان کی شہادتیں عروس نو کو بیوہ ماں کو دیوانہ بنا رہی ہیں۔ہزاروں گھر جلائے جارہے ہیں کیا ان قربانیوں کا صلہ یہ ہے کہ کشمیر کی جغرافیائی وحدت کے ہی ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں۔ بے شک گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے تمام جمہوری ،آئینی اور بنیادی حقوق ملنا چاہئیں۔ آئینی، سیاسی، بنیادی حقوق دینا حکومت پاکستان کی ذمہ داری وہ دے اسے مثالی ترقی دے کر خوشحال علاقہ بنا دے۔ اگر تقسیم ہی ضروری ہے تو پھر پہلے پاکستان مسلم اکثریتی کشمیری علاقے ہی بھارت کے چنگل سے آزاد کروا لے۔ خواہ جنگ سے ایسا کرے یا مذاکرات سے انہیں اپنے ساتھ شامل کر لے تاکہ تقسیم کشمیر کا درد تو کم ہو دکھ تو کم ہو۔
