سری نگر(کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین سید علی گیلانی نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے ہم سب سے بڑھ کر حامی ہیں کیونکہ ان دونوں ملکوں کے درمیان خراب تعلقات سے سب سے زیادہ متاثر کشمیر ہی ہوتا ہے لیکن ان تعلقات کی بحالی کیلئے اگر مسئلہ کشمیر کو سرد خانے کی نذر کرنے کی بات ہوتی ہے تو یہ ہرگز قابل قبول نہیں، ٹوئٹر پر بیان میں سید علی گیلانی نے کہا کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلاکر بہتر تعلقات کو استوار کرنا ایک اچھی سوچ ہے لیکن یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تلخی پیدا کرنے والی وجہ باقی نہ رہے ، ایک طرف کشمیری عوام ظلم کی چکی میں پستے رہیں اور دوسری طرف ہم خطے میں امن کی بھی توقع رکھیں،یہ کیسے ممکن ہے ؟ ۔ یہ تحریک جتنی مقبوضہ وادی کشمیر میں رہنے والوں کی ہے اتنی ہی آزد کشمیر، گلگت بلتستان، جموں، لداخ، کشتواڑ، ڈوڈہ غرض کشمیر کے ہر حصے میں رہنے والوں کی ہے اور اس میں سب کا یکساں تعاون بھی ضروری ہے ۔ حالیہ دنوں میں عالمی سیاست میں رونما ہونے والی کچھ تبدیلیوں سے اس بات کا بھی صاف عندیہ ملتا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے اندر ہی اندر کوئی کھچڑی پک رہی ہے جس کے بارے میں کشمیری عوام کو مکمل طور پر اندھیرے میں رکھا جا رہا ، درپردہ کچھ سرگرمیوں کے اشارے مل رہے ہیں۔ ۔ ہماری جدوجہد کا مقصد کشمیری عوام کے لئے حق خودارادیت کا حصول ہے ، اس سے ہٹ کر کچھ اور کشمیری عوام کے لیے ہرگز قابل قبول نہیں ہوگا ۔
مسئلہ کشمیر سرد خانے میں ڈالنا قابل قبول نہیں: گیلانی
