Input your search keywords and press Enter.

پارلیمانی کشمیر کمیٹی نےمقبوضہ کشمیر میں مظالم کی بندش،حکومت کی کشمیر پالیسی اور کشمیری قیادت کی رہائی کی قرارداد منظور کرلی

پارلیمانی کشمیر کمیٹی نےمقبوضہ کشمیر میں مظالم کی بندش،حکومت کی کشمیر پالیسی اور کشمیری قیادت کی رہائی کی قرارداد منظور کرلی۔بدھ کوچئیرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں قراداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اس امر کا اعادہ کرتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور مسئلہ کشمیر پر تمام سیاسی جماعتیں، تمام قومی و ریاستی ادارے اور عوام متحد اور یک زبان ہیں۔

یہ اجلاس پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان حالیہ خطوط کے تبادلے اور وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کوخطے کے امن اور استحکام سے منسلک کرنے کا خیر مقدم کرتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کا مسئلہ کشمیر کے ساتھ لگاؤ اور کشمیر کے حل کے لئے ایک سفیر کی حیثیت سے گذشتہ اڑھائی سال میں ان کی خدمات کو پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔تمام کشمیری سیاسی قیدی، خصوصا حریت رہنما ؤں کو فوری طور پر رہا کیا جائے خصوصا ً اور انہیں بغیر کسی جرم کے 29 سال سے قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا ہےانہیں تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے اور ان کی فیملی کو ان سے ملنے نہیں دیا جارہا ہے ۔ سید شبیر احمد شاہ کو کسی قسم کی طبی سہولتیں بھی فراہم نہیں کی جارہیں ۔

ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔نوجوان کشمیری رہنما مسرت عالم بھٹ گذشتہ 26سال سے بناء کسی جرم کے بھارتی قید میں ہیں ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یاسین ملک کوذہنی، جسمانی اور جذباتی تشدد کا سامنا ہے اس کے علاوہ ہماری بہنیں آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے اور انہیں ان کے خاندان سے ملاقات کی سہولتوں سے بھی محروم رکھا جارہا ہے۔ ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

قراداد میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کا اجلاس بھارتی حکومت ،عالمی اداروں اور خصوصا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے کونسل سے یہ اپیل کرتی ہے کہ کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کی فوری رہائی کو ممکن بنانے کے لیے کوششیں کی جائیں۔حریت رہنماؤں سید علی گیلانی صاحب اور میر واعظ عمر فاروق صاحب کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سید علی گیلانی صاحب کے بہت قریبی ساتھی اور سیاسی جاں نشین اشرف صحرائی صاحب ایک سال سے جیل میں ہیں ان کا ایک سال میں تقریبا 16 کلو وزن کم ہواہے اور ان کی بینائی بھی جاتی رہی ہے اور شدید بیمار ہیں ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے