Input your search keywords and press Enter.

عالمی ادارے کشمیر میں قتل وغارت کا نوٹس لیں ، کل جماعتی حریت کانفرنس

بھارت نے مقبوضہ جموںوکشمیرکو بدترین قتل گاہ میں تبدیل کر دیا ہے، بیان
غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زوردیاہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوںکی طرف سے بڑے پیمانے پر قتل وغارت، غیر قانونی گرفتاریوں، ظلم و تشدد اور مذہبی مقامات کی بے حرمتی کا نوٹس لیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ورکنگ وائس چیئرمین غلام احمد گلزار نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے تمام فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ نسل کشی ُاور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
حریت رہنما نے گزشتہ چند دنوں میں بھارتی فوجیوںکے ہاتھوں شہید ہونے والے 12 نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ شبیر احمد ڈار، بلال احمد صدیقی، یاسمین راجہ، عبدالصمدانقلابی، جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، جموں و کشمیرپیپلز لیگ اور تحریک وحدت اسلامی سمیت حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے شہید نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ قتل وغارت اور تباہی کا جاری سلسلہ مودی حکومت کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کا مقصد مقبوضہ جموںوکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرناہے۔
انہوں نے کہا کہ آزادی کیلئے کشمیری عوام کے عزم سے بھارت بوکھلا ہٹ کا شکار ہو گیاہے اور اس نے کشمیریوں کو جدوجہد آزادی سے دستبردارکرانے کیلئے سفاکانہ پالیسی اپنارکھی ہے۔دریں اثناء بھارتی فوجیوں نے ضلع پلوامہ میں ترال کے علاقے نئی بگ میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائی شروع کی ۔ کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ظالم بھارتی فوج کی طرف سے 72 گھنٹے سے کم وقت میں 12 معصوم نوجوانوں کے قتل عام سے ثابت ہوگیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیرکو بدترین قتل گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں قابض فورسز کھلے عام کشمیریوںکاخون بہارہی ہیں۔
رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کوئی دن ایسا نہیںگزرتا جب کشمیریوں کو ان کے مادر وطن پر غیر قانونی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے پر نشانہ نہ بنایا جاتا ہو۔جموں و کشمیر سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کورونا وائرس کی وبا میں تیزی کے باوجود سیاحت کے نام پر تقریبات منعقد کرکے کشمیر ی عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایک اہم پیش رفت میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت میں قومی ائرلائن سے منسلک پائلٹوں سمیت 4000 سے زائد پائلٹوں کے خلاف جعلی لائسنس رکھنے پر تحقیقات کی جا رہی ہے۔ ہوابازی کے نگران بھارتی ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل سول ایوی ایشن کی طرف سے اس انکشاف سے دنیا بھر میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی ہے کیونکہ نریندر مودی کے زیرقیادت بھارت کو پہلے ہی یورپی یونین کے ڈس انفو لیب جیسے کئی سکینڈلز کا سامنا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے