Input your search keywords and press Enter.

پاک بھارت گروپ ڈائیلاگ کی تجویز

بھارت کی جانب سے پاکستان کو کشمیر میں تمام تنازعات پر مذاکرات کی پیشکش دونوں ملکوں کے ان کروڑوں شہریوں کے لیے خوشخبری کا درجہ رکھتی ہے جو باہمی تنازعات کا پرامن طریقے سے حل چاہتے ہیں۔ معتبر ذرائع کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ابتدائی بامقصد رابطوں اور بھارت کی طرف سے مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور پر مذاکرات کی پیشکش پر پاکستان میں طاقت کے مراکز اپنا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے سوچ بچار کر رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے بات چیت کے لیے پاکستان کی طرف سے کشمیر کی آئینی حیثیت کی واپسی کی جو شرط رکھی گئی ہے بھارت نے خواہش ظاہر کی ہے کہ ایسی شرط نہ رکھی جائے بلکہ جامع مذاکرات کی بحالی کے بجائے ’’گروپ ڈائیلاگ‘‘ کی تجویز پر غور کیا جائے۔ گروپ ڈائیلاگ کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر‘ سیاچن‘ دہشت گردی‘ در اندازی‘ سرکریک اور آبی تنازعات سمیت ہر معاملے کے لیے الگ الگ گروپ تشکیل دیا جائے تاکہ ایک گروپ میں ڈیڈ لاک سے دوسرے تنازع کے بارے میں مذاکراتی عمل متاثر نہ ہو۔ یہ درست ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی نے نئے مسائل اور تنازعات پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ کشمیر آزادی کے بعد سامنے آنے والے تنازعات میں سے پہلا تھا جس پر دونوں ممالک میں جنگ ہوئی۔ ایک کے بعد دوسری جنگ ہوتی رہی۔ آزادی کے بعد کشمیر‘ پنجاب کی تقسیم‘ اثاثوں کی تقسیم اور مہاجرین کے حوالے سے بھارت کا رویہ عدم تعاون پر مبنی رہا۔ بھارت نے پاکستان اور خطے کے دوسرے ممالک سے خوشگوار ہمسائیگی پر مبنی تعلقات استوار کرنے کی بجائے خود کو خطے کا تھانیدار بنا کر پیش کیا۔ اس سے مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھتی رہیں۔ بھارت کی جانب سے ہر وہ عمل سبوتاژ کیا جاتا رہا جو خطے میں امن کا قیام ممکن بنا سکتا تھا۔ 1980ء کے عشرے میں سارک تنظیم بنی۔ اس کا مقصد علاقائی تعاون اور رابطوں کو بڑھانا تھا۔ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے کسی بیرونی مداخلت کے بنا جنوبی ایشیا کے ممالک اپنی تجارت بڑھا سکتے تھے‘ ایک دوسرے کے وسائل سے فائدہ اٹھا سکتے تھے اور اپنے شہریوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے منصوبوں پر کام کرسکتے تھے۔ کانگرس کے دور میں پاک بھارت مذاکرات کا عمل کسی نہ کسی سطح پر جاری رہا۔ یہی وجہ ہے کہ تنازع کشمیر پر اگرچہ کوئی پیشرفت نہ ہو سکی لیکن دونوں جانب سفارتی تعلقات کبھی اس حد تک خراب نہ ہوئے کہ ہائی کمشنرز کی جگہ سفارت خانوں کے امور نچلے درجے کے سفارت کاروںکے حوالے کردیئے گئے ہوں گے۔ بلا کسی ٹھوس وجہ کے ایل او سی پر اس قدر کشیدگی پیدا کردی گئی کہ پچھلے دو سال میں پاکستان کے 300 شہری شہید ‘ متعدد مکانات تباہ ہوئے اور درجنوں مویشی بھارتی فائرنگ و گولہ باری کا نشانہ بنے۔ بھارت نے مسلسل اشتعال انگیزی جاری رکھی۔ پلوامہ جیسے مشکوک واقعات کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرکے لڑاکا طیارے بھیج دیئے۔ اس موقع پر پاکستان نے سوچ سمجھ کر جواب دیا اور بھارت کے دو لڑاکا طیارے گرا دیئے۔ بی جے پی حکومت نے ایک طرف بھارت میں مسلمانوں پر ہر ظلم روا رکھا دوسری طرف 5 اگست 2019ء کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تحفظ دینے والی آئینی شق0 37 کا خاتمہ کردیا۔ لگ بھگ ڈیڑھ برس سے مقبوضہ کشمیر بھارتی افواج کے محاصرے میں ہے۔ کشمیری باشندوں کی زندگی مشکل بنا دی گئی ہے۔ اقلیتوں پر مظالم اور کشمیر میں جابرانہ اقدامات کے نتیجے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سے لے کر یورپی یونین ،جینوسائیڈ واچ اور دیگر عالمی تنظیموں نے بھارت کے جرائم پر متعدد رپورٹس جاری کی ہیں۔ پاکستان نے عالمی فورمز پر مسلسل بھارت کو بے نقاب کیا ۔ امریکہ‘ سعودی عرب‘ ایران‘ عرب امارات‘ ترکی‘ روس اور چین بھارت اور پاکستان کے مابین مصالحت کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کرتے رہے ہیں۔ مزید براں یہ کہ عمران خان نے انتخابی کامیابی کے بعد پہلی تقریر میں بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد عمران خان کئی بار اس کا اعادہ کر چکے ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ چند ہفتے قبل کہہ چکے ہیں کہ بھارت کو جارحانہ عزائم سے باز آ کر پاکستان کے ساتھ پرامن طریقے سے تنازعات کے حل کی طرف آنا چاہیے۔وزیراعظم عمران خان نے بھارتی قیادت پر یہ بات واضح کردی ہے کہ کشمیر کے بنا دوطرفہ مذاکرات کا کوئی سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ بھارت کی جانب سے گروپ ڈائیلاگ کی تجویز پر کشمیری قیادت کو تحفظات ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اس تجویز پر بزرگ رہنما سید علی گیلانی سمیت حریت کانفرنس اور آزادکشمیر کی قیادت سے مشاورت کرلی جائے تو کشمیر پر گروپ ڈائیلاگ کے اچھے برے ممکنہ نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اس سے بہرحال یہ تاثر قطعی نہیں جانا چاہیے کہ کشمیر کو ایک گروپ کی ذمہ داری بنا کر دونوں ممالک آگے بڑھنے کی کوشش میں ہیں۔ بھارت ان دنوں کورونا کی بدترین لہر کا شکار ہے۔ پاکستانی شہریوں اور حکومت نے انسانی ہمدردی اور ہمسائیگی کی بنا پر بھارت کو مدد کی پیشکش کی ہے۔ سچائی یہی ہے کہ دونوں ممالک جتناچاہے اسلحہ اور دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کرلیں جب تک ان کے عوام کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہوتیں اور عام آدمی کا معیاز زندگی بلند نہیں ہوتا کئی طرح کے خطرات منڈلاتے رہیں گے۔ مذاکرات کا سلسلہ بحال ہوا تو دونوں ملکوں کے عوام کا معیار زندگی بہتر ہونے اور تعلیم و صحت کی سہولیات دستیاب ہونے کا امکان بھی پیدا ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے