تحریر:انعام الحق نامی۔ ۔۔برمنگھم
کشمیری عوام (مغلوں کی آمد سے لے کر) گزشتہ چار سو سال سے اپنے اوپر مسلط کردہ جبرکے خلاف مسلسل بر سرِ پیکار ہیں۔ یہ ہمارے مفاد پرست ٹولے ہی تھے جو اپنی دوکانداریوں اور کھڑپنچیوں کے چکر میں اکبر سے لے کر رنجیت سنگھ تک کو خود بلا بلا کر لاتے رہے۔ کشمیر کے موجودہ حالات کے ذمہ دار بھی ایسے ہی کردار اور رویے ہیں ورنہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اتنی قربانیوں کے بعد بھی کوئی قوم اپنی منزل نہ پا سکے۔ یہ جبری ریاست 1947 کے طوفان میں تقسیم ہو کر محض ایساقضیہ بن گئی جو آنے والے وقتوں میں کچھ کو نئی سیاست کے آغاز اور کچھ کی ڈوبتی سیاست بچانے کیلئے اچھا موضوع فراہم کرتا رہا ۔ دوسری طرف ہم کشمیری خود اپنی دوکانداری کرنے میں اپنی مثال آپ ہیں اسی لئے ہمارا ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ئے رکاب میں۔ گراؤنڈ زیرو سری نگر سے لے کر بیس کیمپ اور بین الاقوامی دنیا تک، ہر جگہ ہم اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا باجا بجا رہے ہیں۔ سری نگر میں نوجوان اپنے اوپر ہونے والے ظلم اور ہتک آمیز سلوک کے ردِ عمل میں غیر منظم طور پر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں لیکن اس مزاحمت میں کوئی ہم آہنگی نظر نہیں آتی۔ اسی وجہ سے نقصان زیادہ تر یک طرفہ ہو رہا ہے۔ بیس کیمپ آزادی کے بعد 70 سال میں ترقی کرتے کرتے ایسی بھینس منڈی میں بدل چکا ہے جہاں کی بھینسیں ہماوقت بکنے کے انتظار میں رہتی ہیں۔ اپنے وطن کی تحریکِ آزادی کے ساتھ آج تک جو کھلواڑ یہاں کے نام نہاد قائدین نے کیا، دنیا میں ایسی بے غیرتیوں کی مثال نہیں مل سکتی۔ صرف کشمیر سیل کے فنڈز کے استعمال کی تفصیل جس دن عوام کے سامنے آگئی سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے بعد کشمیریوں کی سب سے بڑی تعداد برطانیہ و یورپ میں آباد ہے جنہیں ان دونوں حصوں کے دست و بازو بنایا جا سکتا ہے ۔دنیا میں کسی اور قوم کی اتنی بڑی تعداد ایسے با اثر ترین ممالک میں موجو اور اتنی با اثر نہیں لیکن افسوس کہ ان ترقی یافتہ تہذیبوں میں رہنے کے باوجود ہم ذہنی طور پر وہیں کھڑے نظر آتے ہیں۔ وہی آپسی تقسیم اور الگ الگ سیاسی دوکانیں ، قومی آزادی جیسا عظیم مقصد اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم بھی ہمیں گروہی دائروں سے نکالنے کیلئے کافی نہیں ، دنیا ہمارے احتجاجوں کو دارخورِ اعتنا اس لیے نہیں سمجھتی کیونکہ ہم ایک قوم کی بجائے اپنا اپنا کٹورا لئے گھوم رہے ہوتے ہیں، سیکڑوں کشمیریوں کا قا تل مودی جون میں ایک بار پھر برطانیہ آرہا ہے لیکن کوئی مشترکہ و متحرک پلیٹ فارم نہ ہونے کی وجہ سے مختلف لوگ الگ الگ اپنے پروگرام دے رہے ہیں، ان میں سے کوئی بھی قوم کو ساتھ لیکر چلنے کی صلاحیت، وژن اور نیت نہیں رکھتا حالانکہ اگر مشترکہ لائحہ عمل سے برطانیہ میں رہنے والے دو لاکھ کشمیریوں اور پاکستانیوں کو متحرک کیا جائے تو مودی کی برطانیہ آمد کو ہندوستان کیلئے شرمناک ترین دن بھی بنایا جا سکتا ہے، انفرادی اور گروہی احتجاجوں ، نعروں یا لابنگ سے ہندوستان کچھ فرق نہیں پڑنے والا اور نہ وہ ایسے کشمیر کو چھوڑ دے گا ۔ اس کے لئے مقبوضہ کشمیر کے اندر سے لے کر بین الاقوامی سطح تک ہر محاذ پر تحریک کو منظم کر کے ایک لڑی میں پرونا ہوگا۔ تحریک کو رہنمائی اور پلیٹ فارم مہیا کرنے کی اصل ذمہ داری حکومتِ آزاد کشمیر اور وہاں کی قیادت پر عائد ہوتی ہے ۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اب اپنے فروعی مفادات پر تحریکِ آزادی کو فوقیت دیں لیکن اس کام کیلئے ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو مقبوضہ کشمیر سے لیکر بین الاقوامی سطح تک تحریکِ کو منظم کرسکے ۔ بلا شبہ ایسا کرنے والا اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھنے والا راہنما ہی حقیقی معنوں میں قائد کشمیر کہلانے کا حقدار ہو سکتا ہے ۔
قضیہ کشمیر اور ذمہ داریاں
