غیرقانونی طورپربھارت کےزیرقبضہ جموں وکشمیر میں جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کی موجودگی اور کوروناوائرس کےبڑے پیمانےپرپھیلاؤ نےکشمیری عوام میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کےتحفظ کےحوالےسےتشویش پیدا کردی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کےمطابق نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑجیل میں غیرقانونی طورپرنظربند ممتازحریت رہنما الطاف احمد شاہ کی بیٹی روواشاہ نے اپنے والد اور دیگر حریت رہنماؤں کی صحت کے حوالےسےتشویش کااظہار کیا ہے ۔ انہوں نےکہاکہ جیل میں ہر روز کم سے کم دو قیدی کورونا وبا سےمرتے ہیں اور 250 سے زائد افراد میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں اقوام متحدہ ،ریڈ کراس کمیٹی اور انسانی حقوق کی دیگربین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ جیلوں میں نظربند کشمیریوں کو بچانے کے لئے مداخلت کریں ۔بیان میںکہاگیا ہے کہ بہت سے آزادی پسند رہنما کئی عارضوں میں مبتلا ہیں اوروہ طبی سہولت سمیت بنیادی سہولیات سے محروم ہیں.
بیان میں کہا گیا ہے کہ حریت رہنما محمد اشرف صحرائی کی وفات سے ثابت ہوگیا ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے کشمیری نظربندوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔خواجہ فردوس، غلام محمد خان سوپوری، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، جموں و کشمیر پولیٹکل ریزسٹس موومنٹ اور جموں و کشمیر ڈیموکریٹک جسٹس پارٹی سمیت حریت رہنماؤں اورتنظیموں نے سرینگر میں جاری اپنے بیانات میں کورونا وبا کے تیزی سے پھیلاؤ کے باوجود محاصروں اور تلاشی کی کارروائیوں میں اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کارروائیوں کے دوران بھارتی فوجی ماسک نہ پہن کر ایس او پیز کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور لوگوں کو گھنٹوں ہجوم کی صورت میں رہنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
حریت رہنما مختار احمد واز ہ نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کا قابل قبول حل خطے میں پائیدار امن کے لئے ناگزیر ہے۔ سرینگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں ایک بار پھر پوسٹر اور پمفلٹ تقسیم کئے گئے جن میں لوگوں سے بھارت کے جبری قبضے کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔ پوسٹرجموں و کشمیر جسٹس اینڈ پیس انشیٹو نے چسپاں کئے ہیں۔
