فلسطین اور کشمیر کے مسئلے میں گہری مماثلت ،پڑوسی بھارت کیساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں:شاہ محمود ہمیں حل کی طرف بڑھنا ہے :خطاب،نیویارک میں کشمیری وفداور امریکی ایوان نمائندگان کی ایشیاکمیٹی سے ملاقاتیں
اسلام آباد،نیو یارک(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیر پر ہمارا موقف واضح اور دو ٹوک ہے ، کوئی باعزت طریقے سے بات کرنا چاہے تو کریں گے تاہم کوئی سودے بازی نہیں ہوگی، ہمیں دو طرفہ تعلقات کے فروغ کیلئے کلچرل ڈپلومیسی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیویارک میں پاکستان کے مستقل مشن میں پاکستانی کمیونٹی کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خارجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارا یہاں آنے کا مقصد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں مظلوم فلسطینیوں پر جاری مظالم کی روک تھام کیلئے آواز اٹھانا تھا ، اللہ کے فضل و کرم سے ہم سیز فائر کے اعلان کی صورت میں اپنے پہلے مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں۔ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے میں گہری مماثلت ہے ، کشمیریوں کو بھی فلسطینیوں کی طرح کے مسائل کا سامنا ہے ۔ عمران خان سوداگر نہیں، کشمیر کا سودا نہیں کریں گے ،پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں،جادو کی چھڑی کسی کے پاس نہیں، ہمیں حل کی طرف بڑھنا ہے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ، بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کا کردار قابلِ ستائش ہے ۔ علاوہ ازیں وزیر خارجہ نے امریکی پاکستانی کاروباری افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم اپنی جغرافیائی سیاسی ترجیحات کو جغرافیائی اقتصادی ترجیحات میں بدل رہے ہیں۔روشن ڈیجیٹل پاکستان سے چھ ماہ کے دوران ایک ارب ڈالر کی ترسیلات زر ملک میں آئیں۔ ہم بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے اور سیاحت کے فروغ کیلئے ای ویزا رجیم کو بروئے کار لا رہے ہیں۔مزید برآں ڈاکٹر غلام نبی فائی کی قیادت میں کشمیری رہنمائوں نے بھی وزیر خارجہ سے ملاقات کی جن سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا مسئلہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے ۔ عالمی برادری کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ، سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا، جنوبی ایشیا میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ امریکی ایوان نمائندگان کی ایشیا کمیٹی کی قیادت سے بذریعہ وڈیو لنک ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا امریکا کے ساتھ وسیع البنیاد، سٹرٹیجک شراکت داری کے فروغ کے خواہاں ہیں، وزیرخارجہ نے افغانستان کے پرامن، سیاسی تصفیے کے لئے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ افغانستان میں امن، تمام افغان فریقوں اور کلیدی عالمی سٹیک ہولڈرز کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ وزیرخارجہ کی اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے صدرسے غیررسمی ملاقات بھی ہوئی جس میں فلسطین امن سفارتی مشن کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
