مترجم: نورالامین یوسفزئی
یہ سب کچھ تو اپنی جگہ مگر قوم اب بھی فتح کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی جبکہ اُس کے بدلے میں اُس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو وہ اس صورتحال کوکسی بھی طرح قبول کرنے پرآمادہ نہیں تھی۔ اس مسئلے نے مغربی پاکستان میں خاص طور پر بڑی بے چینی پیدا کی کیونکہ ایک تو وہ سارے کمانڈوز اس علاقے سے تعلق رکھتے تھے، دوسرے بمباری بھی یہاں پر ہوتی تھی، جنگ کی تباہی جو یہاں ہوئی تھی وہ مشرقی حصے میں بالکل نہیں ہوئی تھی اور سچ بات یہ ہے کہ اگر کشمیر ہمارے حصے میں آ جاتا تو وہ بھی مغربی پاکستان کا حصہ بن جاتا جبکہ لوگ تو اس انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ صرف کشمیر ہی نہیں دہلی بھی ہمارا ہو گا۔ اس توقع کی بنیادی وجہ پاکستان اخبارات اور ریڈیو پر وہ مبالغہ تھا جو وہ اس جنگ کے بارے میں مسلسل کرتے رہے۔ ان تمام باتوں کے نتیجے میں قوم یہ اُمید لئے بیٹھی ہوئی تھی مگر نتیجہ اُن کی توقعات کے برعکس نکلا۔ گویا چند فاصلے پر وہ مقصد رہ گیا کہ ہم دلی کے لال قلعہ پر سبز ہلالی پرچم لہرانے والے تھے۔ ہمارے یہ خوشامدی لیڈر یہ عقیدہ بھی رکھتے تھے کہ فیلڈ مارشل ایک عظیم لیڈر ہیں، وہ ایشیاء کے ڈیگال ہیں جبکہ اُس کے مقابلے میں ہندوستان نے ایک ناتجربہ کار گمنام اور بونا شاستری کو تاشقند بھیجا ہے۔ اب فیلڈ مارشل کے مقابلے میں شاستری کی کیا حیثیت ہے، یہ مقابلہ تو ویسے بھی ہم نے جیت لیا ہے مگر جب معاہدہ پر دستخط ہوئے اور ایک مکمل مصالحت ہوئی اور لال بہادر شاستری پر اُدھر تاشقند ہی میں دل کا دورہ آیا اور وہ چل بسا، اُس کی میت تاشقند سے دہلی لائی گئی تو یہاں جو سرکار کے نکتہ چین تھے وہ کہا کرتے تھے کہ شاستری پر دل کا دورہ زیادہ خوشی کی وجہ سے آیا کیونکہ معاہدہ میں اُن کے حق میں اتنے فیصلے ہوئے کہ اس کے دل کی دھڑکنیں رُک گئیں۔ اب معاہدہ کی تفصیلات تو کسی کو معلوم نہیں تھیں مگر اُن کی ان باتوں نے لوگوں کو حیران کر دیا۔ معاہدے میں ایک شق یہ تھی کہ جس بھی فریق نے دوسرے فریق کا جتنا علاقہ گھیر رکھا ہے وہ قبضہ وہ چھوڑ دے گا۔ اور کشمیر کے بارے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک آپس میں بیٹھ کر بات چیت اور مکالمے سے حل کریں گے جبکہ اس مسئلہ میں دنیا کے دیگر ممالک غیرجانبدار رہیں گے۔
1965ء کی جنگ کے داخلی اور خارجی اثرات
مشرقی پاکستان پر اس جنگ کا اتنا زیادہ اثر نہیں ہوا تھا مگر وہ لوگ ایک اور مسئلے کا سامنا کر رہے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ اُن لوگوں نے اس جنگ کے دوران یہ دیکھا کہ جب جنگ چھڑ گئی تو مشرقی پاکستان تو فوری طور پر اپنے مغربی حصے سے کٹ کر رہ گیا یہاں تک کہ ہندوستان کے راستے ہوائی سفر بھی ناممکن ہوا، ڈاک کا نظام تو مکمل طور پر بند ہوا اور یوں بنگالیوں نے پہلی مرتبہ یہ بات محسوس کی کہ جنگ کی صورت میں تو ہم مکمل طور پر ہندوستان کے رحم وکرم پر رہ جاتے ہیں کیونکہ مغربی پاکستان تک ان کے آمدورفت کے تمام راستے ہندوستان سے ہو کر جاتے تھے، سمندر کا راستہ بھی ہندوستان کیگرد گھوم کر جاتا تھا۔ مطلب یہ کہ تمام راستے بند ہوئے۔ ساری فوج مغربی پاکستان میں تھی اور مغربی پاکستان کی تھی، جو جنگ ہوتی وہ بھی مغربی پاکستان ہی کی جنگ تھی کیونکہ وہ اپنے لئے کشمیر حاصل کرنا چاہتے تھے اور اگر اور زیادہ زور لگاتے تو شاید دہلی کا لال قلعہ بھی ہتھیا لیتے۔ ان تمام باتوں نے مشرقی پاکستان کو دو حصوں میں متاثر کیا۔ ایک تو جیسا کہ اشارہ کیا گیا وہ لوگ یہ حقیقت جان گئے کہ جنگ کی صورت میں اُن کے (بنگالیوں کے) دفاع کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ ہندوستان کے ساتھ جنگ کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے بھی اُن کا کوئی کردارنہیں ہے کیونکہ اُن لوگوں نے اُن (بنگالیوں) سے اس سلسلے میں کوئی مشورہ تک نہیں کیا تھا۔ مگر مغربی پاکستان کے فوجی اکابرین کی اپنی مرضی ہے وہ جو بھی فیصلہ کرتے ہیں اُس میں مکمل طور پر آزاد ہیں جبکہ وہ اپنے فیصلوں میں بنگالیوں کے سودوزیان کا کوئی لحاظ نہیں کرتے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ قوم اپنے جمہوری، آئینی اور سیاسی حقوق سے یکسر محروم ہے، قومی سطح پر فیصلے چند افراد کرتے ہیں اُن میں قوم کی مرضی شامل نہیں ہوتی۔ مغربی پاکستان میں ون یونٹ کا راج تھا اور صوبوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا، اُدھر مساوی نمائندگی (Parity) کا ڈنڈا استعمال کر کے بنگال کو چپ کرایا جاتا تھا جبکہ فوجی حکومت کا دوسرا نام پنجاب تھا۔
میں ایک بار مولانا بھاشانی کو فیلڈ مارشل سے ملنے لے گیا تھا۔ ہم نے 1965ء کی جنگ کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی بحث کی، دوران گفتگو اُنہوں نے فیلڈ مارشل سے کہا کہ دوران جنگ فوجی امداد تو درکنار حکومت پاکستان سے تو اتنا بھی نہیں ہوا کہ ہمدردی کا ایک کارڈ ہم تک پہنچا دیتی۔ مولانا نے باتوں باتوں میں یہ بھی کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ لوگ بنگال کی اپنی فوج بنائیں تاکہ اس طرح کی جنگی صورتحال میں کم از کم وہ بنگال کا دفاع تو کر سکے۔ اس کے جواب میں فرنگی کے تربیت یافتہ فیلڈ مارشل نے یہ کہہ دیا کہ فوج میں بھرتی ہونے کیلئے قد کاٹھ اور اچھی صحت کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ آپ لوگ (بنگالی) نہایت پست قد اور جسمانی طور پر لاغر ہیں اس وجہ سے آپ لوگ اس قابل نہیں کہ آپ کو فوج میں بھرتی کیا جائے۔ اس کے جواب میں مولانا بھاشانی نے کہا کہ فیلڈ مارشل صاحب آپ کس دنیا کے باسی ہیں؟ یہ تین چار سال چین اور ہندوستان کی جنگ کا تو ہم سب نے مشاہدہ کیا ہے کہ اُن پستہ قد چینیوں نے چھ چھ فٹ کے سکھوں کو ایسے مار بھگایا کہ دنیا دیکھ کر دنگ رہ گئی اور انہوں نے یہ ثابت کیا کہ جنگ جسم سے نہیں ایمان کی طاقت سے لڑی جاتی ہے۔ آپ لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ فیلڈ مارشل کے خیالات کس نوعیت کے تھے اور مولانا بھاشانی، جو بنگالی عوام کی نمائندگی کر رہے تھے اُن کے کیا خیالات اور کیا جذبات تھے۔
