Input your search keywords and press Enter.

کشمیریوں کی جہد آزادی……قسط 4

6اپریل1933کو مسلمانوں کے مذہبی تہوار پر دو متحارب فریقوں کے درمیان کھلے عام جھگڑا ہوا۔جس کے نتیجے میں تین لوگ مارے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے،ڈوگرہ حکومت نے فوری طور پر دونوں میر واعظ صاحبان کو پر سکون رہنے کو کہا مگر میر واعظ یوسف شاہ نے درکار ضمانت دینے سے انکار کر دیا اور28اپریل کو ایک بڑا جلوس نکالا۔جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے سربراہ نے میر واعظ یوسف شاہ پر امن تباہ کرنے کا الزام لگایا۔یوسف شاہ کے آدمیوں نے دوسرے فریق کے حمایتی کو مار دیا۔اگلے روز شیخ عبداللہ نے ایک بڑے مجسمے سے خطاب کیا۔اس سے بعد والے دن وردی میں ملبوس لٹھ بردار رضا کار سری نگر کی گلیوں میں نمودار ہوئے اور شہر کا چکر لگایا،دکانداروں کو زبردستی کاروبار بند کرنے پر مجبور کیا۔بظاہر ایسا لگا کہ کوئی بھی حکومتی عمل داری نہیں ہے۔حکومتی نمائندوں نے پولیس کو حکم دیا کہ صورتحال پر نظر رکھیں مگر صورتحال خرابی کی طرف جاتا دیکھ کر انہیں قانون پر عمل درآمد کرنے کے ضروری اقدامات کرنے کو کہا۔ابتدا میں دونوں مسلمان پارٹیوں کے سرغنائوں کو گرفتار کر لیا۔بعد میں جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر اور میر واعظ یوسف شاہ کو بھی گرفتار کر لیا۔اس کی گرفتاری نے تشدد کی نئی لہر کو جنم دیا۔جون1933میں192مسلمانوں کو جیل بھیج دیا اور59مسلمانوں کے خلاف مارشلائی قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اسکے بعد کہیں جا کر احتجاج کم ہونا شروع ہوا۔بقیہ سال میں جموںو کشمیر مسلم کانفرنس نے جلوس میں سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کی قراردادیں پاس کیں مگر بے دلی سے اسکو شروع کرنے کی کوششیں کی۔سری نگر میں درجنوں لوگوں نے رضاکارانہ گرفتاریاں دیں جنہیں کشمیر بدر کر کے پنجاب بھیج دیا گیا۔مسلمان مقامی رہنمائوں نے سول نافرمانی کی تحریک کو اپنے تابعین کے حوالے کر دیا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور دوسری پنجابی تنظیموں نے بھی جذوی حمایت کی اور ایک وقت آیا کہ یوم شہادت منانے کیلئے جلوس نکالنے کا فیصلہ ہوا تو ایک گروہ نے مسلم کانفرنس سے مستعفی ہونے کی دھمکی دی کہ جماعت کے ممبران اس کے احکام ماننے سے انکاری ہیں۔اچانک اس موقف کے اختیار کرنے پر اس کے حمایتی تذبذب کا شکار ہوئے۔آزاد جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر نے اچانک کشمیر کی ریاستی حکومت کے ساتھ مفاہمت کا غیر متوقع اشارہ دے دیا۔جس سے کشمیریوں کی مصروف تحریک کو نقصان پہنچا۔اس سے مسلمانوں کے درمیانی طبقات نے حمایت میں کمی ظاہر کی لیکن ایک بہتری بھی آئی۔1932سے1934کے درمیان مسلمانوں نے ریاستی تعلیمی وظائف اور ملازمتوں میں آدھے سے زیادہ حصہ وصول کر لیا۔اس اقدام کے نتیجے میں مسلمانوں کی ریاستی بیورو کریسی کے حصے میں نسبتاً اضافہ ہوا جو کہ بڑھ کر30فیصد ہوگیا۔گائوں کی سطح پر زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا لیکن یہ معاشی عنصر پوری کہانی بیان کرنے سے قاصر ہے۔کشمیریوں کی تحریک کو بیرون کشمیر سے معاشی معاونت حاصل تھی۔1933 کے آخر میں احرار کے ہاتھ کھینچ لینے سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی ختم ہو گئی احرار کے جدا ہونے سے برطانوی جبر میں اضافہ ہوا۔جولائی1933 میں ڈاکٹر محمد علامہ اقبال اور جمعیت علما ہند کی مالی معاونت سے ایک نئی کشمیر کمیٹی قائم کی جس میں مسلمانوں کے تمام طبقات شامل تھے۔اس کشمیر کمیٹی کی ایک مذہبی اقلیت نے سخت مخالفت کی اور مخالفانہ پروپیگنڈا بھی کیا۔جموں کشمیر مسلم کانفرنس گرفتاری پر مئی1933میں قیادت کی کشمکش شروع ہو گئی۔اصل میںRuling old guardیہ ڈوگرہ حکومت کے حمایتوں اور نوجوانوں کے درمیان تھی۔بنیادی طور پر پرانے محافظ شیخ عبداللہ کی رہائی چاہتے تھے جبکہ نوجوان براہ راست ٹکرائو کے حق میں تھے۔برطانوی حکومت ہند کے نمائندہ کو خدشہ تھا کہ موجودہ قیادت قابل اعتبار نہیں رہی اور نئے نوجوان حکم نہیں مانیں گے۔تاہم مسلم کانفرنس کی قیادت شیخ عبداللہ کے امیج کی وجہ سے متناذعہ ہو گئی۔شیخ عبداللہ نے رہائی کے بعد اپنے ہم مذہبوں سے دوری اختیار کرتے ہوئے ایک نو مسلم انگریز عورت سے شادی کر لی۔شیخ عبداللہ کے قادیانی ہونے کی افواہیں زور پکڑنے لگیں۔میر واعظ یوسف شاہ کے مجلہ میں مضامین لکھے گئے اور ایک خط شائع ہوا۔محمود احمد کو لکھا گیا خط جس میں اسکا احمدی عقیدے پر کاربند ہونا پایا گیا۔جس سے اس کی مقبولیت ختم ہو گئی اور اس کے بہت سے حمایتوں نے آزاد پارٹی آف میر واعظ یوسف شاہ قائم کر لی۔
(جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے