Input your search keywords and press Enter.

کشمیر پر پیشرفت 5 اگست کے اقدام کی واپسی سے منسلک کیوں؟

بھارت کشمیر میں آبادی کا توازن توڑ کر دوسرا اسرائیل بنانے پر تلا ہوا ہے مسئلے پر پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور عالمی سطح پر پوزیشن بہت مستحکم ہے

 پاکستان کی جانب سے کشمیر سے متعلق یکطرفہ اقدامات واپس لینے تک بھارت سے تعلقات بہتر نہ ہونے کے مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید پاکستان کی جانب سے ایسا مذاکراتی عمل کسی روڈ میپ اور پیشگی شرائط کے بغیر ممکن ہو پائے گا،ایسے غیر مشروط مذاکرات کیا نتیجہ خیز ہو پائیں گے ؟دیکھنا یہ ہے کہ کیا بھارت سے مذاکراتی عمل کو صرف 5 اگست کے اقدامات سے واپسی تک مشروط رکھنا ہوگا ، کیا بھارت اس پر تیار ہو جائے گا ۔ بھارت سے بیک ڈور اور فرنٹ ڈور ڈپلومیسی کے حوالہ سے خبروں میں کس حد تک صداقت ہے ۔ کیا بھارت بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات کیلئے تیار ہو گیا ہے ؟۔ حقیقت حال یہ ہے کہ بھارت کے 5 اگست 2019کے اقدامات میں دفعہ 35اے کے خاتمے نے جموں وکشمیر میں آبادی کے توازن کو توڑ دیا ہے ۔ اس نے یہاں دوسرا اسرائیل بنانے کا راستہ کھول دیا ہے ، مقبوضہ وادی میں موجود 8لاکھ بھارتی افواج اور ان کی جانب سے روا رکھی جانے والی انسانی حقوق کی بدترین کارروائیاں انسانی حقوق کی پامالی کا بدترین نقشہ پیش کرتی ہیں۔ ایسی کسی صورتحال میں بھارت سے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا عملاًبھارت کے تمام غیر انسانی اور غیر قانونی اقدامات کو تحفظ دینے کا باعث ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے کشمیر کاز کے حوالہ سے یکسوئی اور سنجیدگی اختیار کی جائے اور پھر اس پر کسی مذاکرات کے آپشن پر بات کی جائے ۔ پاکستان تو ہمیشہ سے بامقصد بات چیت، مذاکرات کا خواہاں رہاہے جبکہ خود بھارت نے جب بھی پاکستان کیلئے مذاکرات کی کھڑکی کھولی تو اسکا مقصد بامقصد مذاکرات کے بجائے بین الاقوامی دباؤ سے نکلنا اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد مرتبہ ہونے والے مذاکرات، مذاکرات کا کھیل کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوا اور نہ باہمی تنازعات کے حل کے حوالہ سے کوئی پیش رفت ہو سکی لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مذاکراتی عمل کو صرف 5 اگست کے اقدامات کی واپسی سے مشروط کرنے کے بجائے پاک بھارت مذاکرات کے ایجنڈا کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بنیاد بناتے ہوئے اس پر آگے چلنے کا روڈ میپ تیار ہونا چاہئے اور نہ صرف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے بنائے ہوئے کمیشن کا ہی تقاضا نہیں بلکہ خود بھارتی قیادت نے بھی اسے تسلیم کر رکھا ہے ۔ جموں و کشمیر کے عوام سے کئے جانے والے اس وعدے پر انہیں دنیا کی تائید و حمایت بھی حاصل ہے اور خود آئین پاکستان کی دفعہ 257 میں اس حل کو واحد حل کی حیثیت دی گئی ہے اور اس مسئلہ کے پرامن، منصفانہ اور حقیقت پسندانہ حل کے سوا کوئی دوسرا فریم ورک نہیں ہو سکتا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی تکرار اور اصرار اس لئے ضروری ہے کہ اسی بنیاد پر امریکا کے بہت سے ممالک میں خود اپنے مفاد میں وہاں کی اقوام کو حق خودارادیت دلوایا اور لوگوں کو اپنے مستقبل کے تعین کا حق ملا جس میں مشرقی تیمور، سوڈان اور اریٹیریا سمیت دیگر شامل ہیں۔ کشمیر کاز کے حوالہ سے ایک بات نہیں بھولنی چاہیے کہ کشمیر میں ہمارا مقصد یا ایجنڈا کسی حکومت کی تکمیل یا کسی علاقہ کا حصول نہیں۔ یہ تقسیم ہند کے تحت ملنے والا کشمیریوں کا وہ حق ہے جس میں انہیں اپنے مستقبل کے تعین کا حق ملتا ہے اور اب تک کی ساری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کشمیر ایشو کے حوالہ سے پاکستان سمیت مختلف فورسز کے موقف میں اونچ نیچ آئی ہوگی مگر کشمیریوں نے کشمیر سے بھارتی تسلط سے نجات اور آزادی کے حصول کو کسی ایک لمحے بھی نہیں بھلایا اور قربانیوں کی تاریخ رقم کرنے کے باوجود وہ آج بھی مقبوضہ وادی میں آزادی کا علم اٹھائے سراپا احتجاج نظر آتے ہیں اور بھارتی افواج ان کی آواز دبانے کیلئے ٹارگٹ کلنگ کا بدترین اور سفاکانہ عمل جاری رکھے ہوئے ہے ۔ کشمیر میں عملاً بھارت سے نفرت اپنی انتہا پر ہے اور بغاوت کی صورتحال پر بھارتی افواج آج تک قابو نہیں پا سکی۔ پاکستان کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود دیکھا جائے تو کشمیر پر آج بھی پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور عالمی پوزیشن بہت مستحکم ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے