انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے متعلق قیاس آرائیوں کا ایک بار پھر سے ذکر چھڑ گیا ہے۔
پانچ اگست سنہ 2019 کو اس علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اسے دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کے بعد اب یہ قیاس لگایا جارہا ہے کہ مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مودی حکومت انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کی تیاریاں شروع کرنے والی ہے۔
یہ قیاس آرائیاں بہت ساری میڈیا رپورٹس کے حوالے سے لگائی جا رہی ہیں۔ جمعہ کے روز نیوز ایجنسی پی ٹی آئی نے بھی اس کے متعلق ایک اہلکار کے حوالے سے ٹویٹ کیا تھا۔
