کشمیر میں جبر و استبداد کی کہانی بہت پرانی ہے اور بہت تاریک ہے اور خون نا حق سے لتھڑی ہوئی ہے۔ ڈوگرہ راج میں تیرہ جولائی سن انیس سو اکتیس کو بائیس جوانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی۔ جبرو استبداد کی یہ میراث بھارتی فوج کو ملی اور اس نے پچھلے سات عشروں میں وادی کشمیر کی آبادی کا قتل عام کیا۔پاک باز کشمیری خواتین کی عزتوں اور عصمتوں کا قتل عام کیا۔ نوے لاکھ انسانوں کے بنیادی حقوق کا قتل عام کیا۔ اور اس قتل وغارت کا سلسلہ کہیں رکنے میں نہیں آتا۔
کشمیر ڈوگرہ راج کے چنگل میں کیسے گیا۔چند ٹکوں کے عوض انگریزوں نے ہندو مہاراجہ کے ہاتھوں کشمیر فروخت کر دیا ،یہ کشمیر کا سودا نہیں تھا لاکھوں کشمیریوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح فروخت کر دیا گیا ،انہیں ڈوگرہ مہاراجہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ،جب بھی کشمیریوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ڈوگرہ فوج نے آنکھیں بند کرکے ہجوم در ہجوم کشمیریوں پر گولیوں کی بارش کردی ،کشمیری گرتے رہے اور تڑپتے رہے ۔
یوم شہدائے کشمیر پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں: وزیراعظم
برصغیر کی آزادی کے فارمولے اور تقسیم ہند کے اعلان کی روح سے کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بن سکتا تھا، اس کے لیے ریڈ کلف بائونڈری کمیشن کا ناٹک رچایا گیا ،اس کمیشن کی کارروائی تو چلتی رہی اور ختم ہوگئی۔ اصول کے تحت کمیشن نے فیصلہ تمام فریقوں کے روبرو سنانا تھا مگر ریڈ کلف خاموشی سے سات اگست کو دلی سے لندن پرواز کر گیا ،چودہ اگست کو انڈیا اور پاکستان معرض وجود میں آئے مگر مائونٹ بیٹن اور نہرو کے سوا کسی کو دونوں ملکوں کی سرحد بندی کا علم نہیں تھا،ریڈ کلف کی غیر حاضری میں بائونڈری کمیشن کا فیصلہ انتہائی پر اسرار حالات میں سترہ اگست کی شام کو شائع کیا گیا جس کے تحت گورداسپور اور پٹھانکوٹ کا علاقہ بھارت کو مل گیا۔بات گورداسپور اور پٹھانکوٹ تک محدود نہیں ، اصل میں اس راستے سے بھارت کا کشمیر سے زمینی رابطہ قائم کرنا تھا ،جسے استعمال کرتے ہوئے بھارت نے اپنی فوجیں جارحانہ طور پر کشمیر میں داخل کر دیں ،اعلان آزادی کی روح سے کشمیر کی اکثریتی مسلمان ریاست کو پاکستان کا حصہ بننا تھا لیکن ریڈ کلف کی غداری اور ڈنڈی مارنے کی وجہ سے کشمیر کو بھارت نے اچک لیا اور محکوم بنا لیا، وہ دن اور آج کا دن کشمیری مسلمان آزادی کی جدو جہد میں مصروف ہیں ،بد قسمتی سے بھارت کو وادی کشمیر میں کچھ پٹھو مل گئے جن میں شیخ عبداللہ،فاروق عبداللہ،عمر عبداللہ، غلام نبی آزاد اور محبوبہ مفتی جیسے لوگ شامل تھے مگر آج جب بھارت نے آئین کی دھجیاں بکھیری ہیں ،سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ٹھوکر ماری ہے اور شملہ معاہدہ کو بھی پس پشت ڈالا ہے تو بھارت کے ان پٹھوئوں کو بھی ان کی اوقات یاد دلادی گئی ہے ۔پانچ اگست دو ہزار انیس کو بھارت نے جیسے ہی اپنے آرٹیکل میں ترمیم کرکے شق تین سو ستر اور پینتیس اے کو خارج کیا تو نہ صرف ان پٹھو لیڈروں کو نظر بند کیا ،ان کے ہونٹوں پر تالے لگائے بلکہ پوری وادی جموں و کشمیر میں ایسا لاک ڈائون نافذ کردیا کہ چڑیا تک کو پر مارنے کی اجازت نہ تھی ،بھارت نے تمام بنیادی حقوق سلب کرلیے،کشمیریوں کا رابطہ بیرونی دنیا سے کاٹنے کے لیے وائی فائی سروس اور موبائل فون سروس بند کردی ،ایک دنیا حیران اور پریشان ہے کہ لاک ڈائون کے باوجود کشمیر میں کرونا کیسے پھیلا ،لیکن اس وبا نے کشمیریوں کو اپنی لپیٹ میں لیا تو انہیں ہسپتالوں تک رسائی بھی نہ دی گئی اور علاج معالجے کی تمام سہولتیں ان سے چھین لی گئیں ۔لاک ڈائون کے ساتھ ساتھ سخت قسم کا کرفیو نافذ تھا ،کسی گھر سے اسی سال کا بوڑھا یا آٹھ سال کا معصوم بچہ بھی گھر سے باہر جھانکتا تو اس کا سر گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا ،اگرچہ انسانی حقوق کی نام لیوااین جی اوز محض کاغذی حیثیت رکھتی ہیں لیکن ان میں سے کسی نے بھی اگر وادی کشمیر کے دورے کی اجازت مانگی تو بھارت نے لاک ڈائون اور کرفیو کا بہانہ کر کے ان کو وادی کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی ۔
خانیوال ،کھچی برادری کا سید گروپ میں شمولیت کا اعلان
امریکہ میں حکومتی تبدیلی کے بعد ایک ایسی پارٹی اقتدار میں آئی ہے جو انسانی حقوق کا راگ الاپتی ہے ، بھارت نے امریکی حکومت کو دھوکہ دینے کے لیے ایک ڈرامہ رچایا اور آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا ۔یہ ایک نام نہاد آل پارٹیز کانفرنس تھی کیونکہ اس میں صرف بھارت کے پٹھو لیڈر ہی مدعو کیے گئے تھے ، کشمیریوں کی حریت پسند قیادت کو برسوں سے نظر بند کیا گیا ہے اور وہ اسی طرح جیلوں میںگل سڑ رہے ہیں، دلی کی کشمیر کانفرنس میں اس حریت پسند لیڈر شپ کا موقف نہیں سنا گیا۔
کشمیر پر مستقل قبضہ برقرار رکھنے کے لیے بھارت نت نئے حربے استعمال کر رہا ہے ،اس نے ریاست جموں و کشمیر کو تین حصوں میں بانٹ دیا ہے ، وادی کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے بڑی تعداد میں ہندو سرمایہ کار جائیدادیں اور باغات خرید رہے ہیں اور انہیں وہاں کی شہریت دی جارہی ہے جس کی وجہ سے آبادی کے تناسب میں ایک سو اسّی ڈگری کا فرق واقع ہونے کا اندیشہ ہے ۔اس حالت میں بھارت نے وہاں اگر الیکشن کا ڈھونگ رچایا تو ایک طرف تو حریت کانفرنس کی طرف سے اس کا بائیکاٹ ہوگا مگر دوسری طرف ہندو امیدوار اور ہندو ووٹر سرگرم عمل ہوں گے اور الیکشن کے نتائج نئی دلی کی خواہشات کے مطابق نکلیں گے ۔
ویکسی نیشن کے سلسلہ میں وہاڑی پنجاب بھرمیں دوسرے نمبر پر :مبین الٰہی
بھارت نے اپنے آئین سے کھلواڑ کیا، عالمی معاہدوں سے کھلواڑ کیا مگر وہ اپنا پنجہ استبداد گاڑنے میں کامیاب نہیں ہو گا اس لیے کہ سید علی گیلانی، شبیر شاہ، یاسین ملک جیسے قد آور حریت پسند لیڈرہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں اور وادی کشمیر کا بچہ بچہ شہید برہان وانی کے نغمے الاپتاہوا شہادتوں کے گل و گلزار مہکا رہا ہے، وہ اپنی آزادی کی حفاظت کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کو تیار ہے۔بھارت کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے اور سیدھی طرح سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق شفاف استصواب کے ذریعے کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دینا چاہئے۔کشمیری اس فیصلہ کا اعلان ہر سانس کے ساتھ کرتے ہیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان ۔
