Input your search keywords and press Enter.

آزاد کشمیر میں تبدیلی کی ہوائیں؟

آزاد کشمیر میں جولائی کے آخری ہفتے میں آزادانہ اور خودمختار الیکشن ہونے جا رہے ہیں،سیاسی بیان بازی اپنی جگہ مگر آذاد کشمیر میں گذشتہ 73 سال سے ہمیشہ آذادانہ ماحول میں الیکشن کاا نعقاد ہوا،1985 ؁ء کے الیکشن میں صرف پانچ سال برسراقتدار رہنے والے برگیڈیئر مرحوم حیات خان کا دور اقتدار ایسا تھا کہ عوام کشمیر بنے گا پاکستان ،’’کشمیر بنے گا دارالسلام ‘‘اور خودمختار کشمیر کی جگہ نلکا ،ٹونٹی،سڑک ،اسکول اورہسپتال کی تعمیر وترقی کا ویژن آیا،مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کے حلقے کے انتہائی قریبی عزیز کانڈی بیلٹ میں لالٹینیں اورگیس کی روشنی رات 11 بجے استقبالیہ دیا تھا جسمیں اسکول اور ترقیاتی سکیم کی ضرورت تھی۔1985 ؁ء کا الیکشن ایک جانب تحریک آذادی کشمیر کے مجاہد ،غازی اور شہداء کے وارث تھے اور دوسری جانب نومولود سیاسی جماعت تحریک عمل تھی،48 رکنی اسمبلی میں 25 ممبران والی جماعت اقتدار حاصل کر سکتی تھی ،تحریک عمل نے 14 نشستیں حاصل کی،آزادکشمیر میں اقتدار حاصل کرنے والی مسلم کانفرنس نے 19 نشستیں حاصل کی چند آزاد اراکین کے ساتھ اور وفاق کی حمایت سے مسلم کانفرنس نے حکومت بنائی ۔صرف عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آذاد کشمیر کے عوام انتہائی باشعور اور سیاسی امور کے ماہر ہیں۔آج پھر وفاق کی حمایت سے پی ٹی آئی آذاد کشمیر اقتدار کی کشمکش میں سب جماعتوں سے برتری پر نظر آتی ہے،پارٹی میں چند اختلافات اور پسند نہ پسند کی بات ہو رہی ہے مگر آخری عشرے میں پی ٹی آئی مضبوط اور توانا آواز کے ساتھ آگے ہو گئی۔عوام بھی سمجھتے ہیںکہ پی ٹی آئی کی حکومت بننے سے وفاقی حکومت کی حمایت سے تعمیروترقی کا ایک انقلاب برپا ہو گا،کاروبار اور روزگار کا آغاز ہوگا۔40 لاکھ کی آبادی والے آزاد کشمیر میں صرف 7 لاکھ صحت کارڈ تقسیم کئے گئے جو کہ بلا امتیاز اور بلا تفریق بغیر کسی سیاسی تعلق پر تقسیم ہوئے اسی طرح ’’احساس‘‘پروگرام کے تحت گھر گھر نقد ماہوار مالی امداد دی جاتی ہے۔آزاد کشمیر کی آبادی تقریباً 40 لاکھ ہے یعنی راولپنڈی سے آدھی آبادی ہے یا پھر اسلام آباد سے ڈبل چند سال قبل تک سی ڈی اے میں ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لئے سی ڈی اے کے پاس وسائل نہ تھے ،تین سال قبل ایک ہائوسنگ سوسائٹی کے ریوازڈ لے آوٹ کی فیس چیک کی صورت میں جمع کرانے کے لئے جو کہ 29 لاکھ تھی،اکائونٹ والوں نے کہا کہ سی ڈی اے پے آرڈر لیتا ہے،پلاننگ کے ڈائریکٹر نے کہا کہ سوسائٹی کے اکائونٹ میں پیسے ہیں ،جمع کر لو ہماری کم از کم تنخواہ کے پیسے تو آگئے۔گذشتہ سالوں میں سی ڈی اے کا بجٹ چار سے پانچ ارب سالانہ تھا ،آج 25 ارب سرپلس ہے۔اگر حکمت عملی ،اقدامات،قانون سازی ہو اورچوری اور رشوت کا خاتمہ ہو تا عوام کو اعتماد حاصل ہوتا ہے۔آزادکشمیر میں صرف اچھی حکومت اور وفاق سے بہتر تعلقات ہوں تو بے شمار مسائل حل ہو جائیں گے۔آزاد کشمیر میں بہت کم اتفاق ہوا کہ مرکز کے ساتھ ہم آہنگی ہو،گذشتہ 5 سال میں تین سال اسی کشمکش میں گذر گئے ،کئی دہائیوں سے آزادکشیر میں کوئی قابل ذکر کام نہ ہوا کہ آذاد کشمیر کے عوام خوشحالی حاصل کر سکیں ۔زراعت نہ ہونے کے برابر ،پنجاب ،سندھ، کے پی کے اور بلوچستان کی طرح نہیں کہ زراعت کی فصل اٹھائیں ،فیکٹریاں اور کارخانے نہیں کہ روزگار حاصل کریں۔صرف نوکری خواہ پاکستان یا پھر بیرون ملک ،اگر صرف تجزیہ کریں کہ نادرن ایریا ،سوات،گلگت میں جب دہشت گردی عروج پر تھی تو سیاحت کے لئے آزاد کشمیر کا خطہ ایسا امن کا گہوارہ تھا جہاں دہشت گردی نہ تھی،فرقہ واریت نہ تھی،امن و سکون تھا۔جنرل مشرف کے دور کے بعد تو آزاد کشمیر میں ریکارڈ تعداد میں سیاح گئے،تقریباً سالانہ پانچ سے آٹھ لاکھ سیاح جاتے تھے،مری سے کوہالہ پکنک پوائنٹ پر ہزاروں سیاح جاتے ،ایسے میں آزادکشمیر انٹری پوائنٹ پر ایک عدد پولیس والا روایتی طرز عمل سے شناختی کارڈ اور شناخت کے بہانے تنگ کرتے تا کہ چند سکے رشوت کے وصول کر سکیں۔کئی سال آذاد کشمیر پاکستانیوں کے لئے نفرت کا سبب بنتا گیامگر کسی نا اہل آفیسر کو خیال نہ آیا ،وہ اپنے ٹی اے ڈی اے میں مصروف تھا یا پھر سرکاری گاڑیاں اور وسائل کے مزے لے رہا تھا۔گذشتہ دور میں وزیراعظم فاروق حیدر ایک یا دوانٹری پوائنٹ پر رک کر سیاحوں کا خیر مقدم کرنے کا درس پولیس کو دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر نظر آئے یا پھر وزیراعظم عمران خان کو للکارتے ہوئے نظر آئے کہ تمہارے گھر تک پیچھا کروں گا،حالانکہ سیاسی شعور اور قربانیوں کے وارث کو معلوم نہیں کہ ایسا کرنے سے مقبوضہ کشمیر کیا، پیغام پاکستان کے بارے میں جائے گا۔صرف اپنی مرکزی قیادت نا جانے کون سے ووٹ کی بات کرتی ہے۔جب پارلیمنٹ میں ووٹ کی ضرورت ہوئی اپنی حیثیت منوانے کی بات ہوتی تو ووٹ ہی نہ دیتے۔حکومت کو واک اوور دیتے ، ان کی سیاست کے ناعاقب اندیشوں کو معلوم نہیں کہ سیاسی ٹرین ’’مس‘‘کرنے سے یا غلط ٹرین پر بیٹھنے سے قائد عوام پھانسی لگتا ہے۔قائداعظم ثانی جلاوطنی کاٹتے ہیں،اینٹ سے اینٹ بجانے والے اقتدار سے محروم ہوتے ہیں،لیڈروں کے غلط فیصلے عوام کو بھگتنا پڑتے ہیں،صرف ایمانداری سے فیصلہ کریں کہ پاکستان کو ناقابل تسخیرقوت دنیا میں بنانے میں مرکزی کشمیریوں کی آزادی کس نے ادا کیا؟ ’’نریندری موددی‘‘کو ریڈ کارپٹ استقبال کس نے اور کیوں کیا ،بھارتی سٹیل آئیکان سرکاری پروٹوکول میں مری کیوں اور کس لئے گیا۔آج کشمیریوں کی خوشحالی ،عزت ،وقار، کاروبار ،روزگار اور ترقی صرف عمران خان حکومت آنے سے ہو گا،آزادی کشمیر کی 73 سالہ تاریخ میں دیکھیں تو 25 جولائی 2021 ؁ء کو ہونے والے الیکشن میں بڑی ’’تبدیلی ‘‘گھر گھر ،محلے محلے ،شہر شہر واضع طور پر نظر آئے گی،جس نے پاکستان میں ایک انقلاب برپا کیا کہ غیر مقبول سیاسی کردار ایک ’’مقبول کردار‘‘بن گئے،راولپنڈی سے تنہا 9 الیکشن جیتنے والے سیاسی پنڈت شیخ رشید کو اپنی آبائی نشست کو حاصل کرنے کے لئے پی ٹی آئی کی حمایت کی ضرورت محسوس ہوئی،1985 ؁ء سے ناقابل تسخیر سیاسی کردار ،آج عمران خان کو اپنا سیاسی اور روحانی پیر ومرشد سمجھتا ہے،اس کی وجہ آزاد کشمیر کے سیاسی پیشہ ور کرداروں کو سمجھ آ گئی ہے۔عمران خان عوام کے دل پ راج کرتا ہے،حالانکہ ’’شیخ کاپتر‘‘کچھ دیکھ کر گرتا ہے،شیخ رشید احمد کو کشمیر کی الیکشن مہم کا انچارج بنایا گیا ،پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی قیادت غبارے میں زیادہ ہوا پھرنے والی مثال ہے،ورنہ آزمائے ہوئے سب نے دیکھ لئے آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی نئی اور نوجوان قیادت آئے گی،’’سردار تنویر الیاس‘‘کاروباری اور سرمایہ دار خاندان سے تعلق ہے مگر کیا میاں نواز شریف کا سیاست میں آنا اور تنویر الیاس کا آنا کچھ ایک جیسا نہیں ہے؟،نواز شریف کے بارے میں سیاسی پنڈت بہت کہتے تھے کہ ناکام ہو گا مگر چشم فلک نے دیکھا کہ پاکستان کا مقبول لیڈر بن گیا۔مگر صرف’’ ایک نقطے نے محرم سے مجرم بنا دیا‘‘،کچھ سمجھ کر جیو،سردار تنویر الیاس آزاد کشمیر کی سیاست میں خوشگوار آمد ہے۔پونچھ اور باغ کی محرومیوں کا مداوا ہے،تعمیر وترقی کا نشان ہے ،کم از کم پروٹوکول سے لطف اندوز نہ ہو گا۔آزاد کشمیر کو کامیاب ریاست بنائیں گے،آذاد کشمیر میں آسمان پر لکھا نظر آ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کا دور آئیگا۔’’جب آئے گا عمران ۔بنے گا کشمیر نیا پاکستان ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ترقی ،خوشحالی،کاروبار،روزگار،امن و انصاف صرف عمران خان کے سنگ…!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے