Input your search keywords and press Enter.

بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل عام کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل عام کے خلاف مکمل ہڑتال۔تفصیلات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں سرینگر میں چار شہریوں کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف مکمل ہڑتال کے باعث معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سری نگر کے علاقے حیدر پورہ میں شہریوں کی قتل کے خلاف احتجاج کے لیے تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی۔ قابض حکام نے لوگوں کو بیگناہ شہریوں کے بہیمانہ قتل کے خلاف مظاہروں سے روکنے کے لیے سرینگراور دیگر بڑے قصبوں میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکارتعینات کر دیے تھے۔ لوگوں نے بھارتی فورسز کی بھاری نفری کی تعیناتی کے باوجود مقبوضہ علاقے کی متعدد مساجد میں حیدر پورہ جعلی مقابلے کے شہداکی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ شہید ہونے والے چار شہریوں میں سے دو الطاف احمد بٹ اور ڈاکٹر مدثر کی میتوں کوکپواڑہ کے علاقے ہندواڑہ کے قبرستان میں قبرکشائی کے بعد گزشتہ روز رات گئے سری نگر کے علاقوںبرزلہ اور راولپورہ میں سپرد خاک کیا گیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں ایک بیان میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ جموںو کشمیرمیں جعلی مقابلوں میں شہریوں کے ماورائے عدالت قتل میں تیزی کی مذمت کی۔ انہوں نے شہید الطاف احمد بٹ اور ڈاکٹر مدثر گل کے غمزدہ خاندانوں کی اپنے پیاروں کی میتوں کی واپسی کیلئے بہادری اور مضبوط عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ جعلی مقابلے کے ڈرامے نے مقبوضہ علاقے میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔دریں اثناء غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرتسلط جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نے جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے چیئرمین مختار احمد وازہ کو پارٹی کے دیگر رہنمائوں کے ساتھ گرفتار کر لیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پولیس نے مختار احمد وازہ کو حیدرپورہ سرینگر میں چار شہریوں کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاج کرنے سے روکنے کیلیے پارٹی رہنمائوں انجینئر فیاض، ریاض احمد، رفیق احمد اور سمیر احمد کے ساتھ ان کے گھروں سے گرفتار کرلیا۔علاوہ ازیں مقبوضہ جموں و کشمیرکے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے قابض انتظامیہ کی طرف سے حیدرپورہ سرینگر میں چار کشمیری شہریوں کے جعلی مقابلے میں قتل کی تحقیقات کیلیے جوڈیشل انکوائری کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ تحقیقات کے عمل میں بار ایسوسی ایشن اور سول سوسائٹی کے ارکان کو شامل کیاجاناچاہیے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مفتی اعظم ناصرالاسلام نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں قابض انتظامیہ کی طرف سے حیدرپورہ میں جعلی مقابلے میں شہریوں کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کے اعلان کو قاتلوں کوبچانے کی ایک کوشش قراردیا کیونکہ کشمیری عوام ماضی میں ایسی سینکڑوں انکوائریاں دیکھ چکی ہیں جن کا آج تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے ۔انہوں نے سانحہ حیدر پورہ میں ملوث بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کرنے پر زوردیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے