مسائل حکمت عملی سے حل کئے جاتے ہیں۔صرف تقریروں اور بیانات کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوتے۔ سات دہاییاں گزرگئی ہیں اور ہم تقریروں اور بیانات میں ہی لگے ہوئے ہیں۔ان سات دہائیوں میں حکومتیں بدلتی رہی ہیں اور کشمیر کیمٹی کے چئرمین بھی بدلتے رہے ہیں مگر جو چیز نہیں بدلی وہ ہماری سوچ اور بے حِسی ہے۔ہر سال شہادت اور کشمیر کے بارے میں نئے ترانے اور نئے نئے نعرے بھی دیکھنے میں آتے رہے لیکن اس مسئلے کی اہمیت کی طرف دھیان کسی کا نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے پُر فریب نعروں اور دھواں دار تقاریر نے ہی کشمیرکاز کو شدیدنقصان پہنچایاہے۔ شائد مودی کی پالیسیاں بھی مقبوضہ کشمیر کیلئے اتنی مہلک نہ ہوں جتنی ہماری بے حسی ہے۔ گلگتی شینا زبان میں ایک بہترین ضرب المثل ہے ” سوتو شوں واجا ڈینگر” یعنی بےوقوف چور سوئے ہوے کُتّے کو ڈانڈا مار کر خود جگاتاہے۔ہمارے نعروں اور ترانوں نے بھی یہی کچھ کیا ہے۔ ہمیں کشمیری تہذیب و ثقافت اور کشمیری تاریخ کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے ، ہمیں کشمیریوں کو سفارتی محاذ پر یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک ہی ملت ہیں، ہمارے نصابِ تعلیم میں مسئلہ کشمیر کو نمایاں جگہ دینے اور میڈیا میں اس مسئلے کو زندہ رکھنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اگرچہ اقوام متحدہ کی رو سے کشمیر ایک متنازع منطقہ ہے لیکن ہندی فلموں اور ہندی ہیروئنوں کے پیار کے نغموں نے ہماری نئی نسل یہ تنازع بھلا کر پریت کے گیت گانے پر آمادہ کرنا شروع کیا ہوا ہے۔ ایسے مسلمان ممالک جو مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کیلئے امہ امہ کہتے نہیں تھکتے اُن کے ہاں کوئی کشمیر ڈے یا کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کی کوئی کانفرنس تک نہیں ہوتی۔
عرب ممالک اپنے اُمّہ اُمّہ کے منتر سے اسرائیل اور ہندوستان کو یہ باور کرانے میں مگن ہیں کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں چونکہ اُمّت کے ٹھیکیدار ہم ہی ہیں۔ ساری عرب دنیا میں کشمیرکی مظلومیت پر کوئی ایک مجلہ تک نہیں چھپتا۔ گویا تیل کے ان سارے خزانوں میں کشمیریوں کا رتّی بھر حصہ نہیں ہے۔انسانی حقوق کی سینکڑوں عالمی تنظیموں اور اداروں میں سے بھی کوئی ٹس سے مس نہیں ہو رہا جبکہ کتنے ہی سالوں سے کشمیریوں کو گھروں میں گُھس گھس کر مارا جا رہا ہے۔
کشمیری خواتین اور بچے اپنے ویڈیو پیغامات میں چیخ چیخ کر عالمی اداروں کو پکار رہے ہیں کوئی بھی ان کی آہ و بکا پر کان دھرنے کےلئے تیار نہیں ۔ یقینا کوئی بھی تیار نہیں ہوگا چونکہ دنیا کمزور کی آواز نہیں سُنتی ، یہاں طاقتور کا ڈھول ہی پیٹا جاتا ہے۔
ہمیں ضرورت ہے کہ ہم بطورِ پاکستانی اپنے سارے محاذوں پر اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیں اوراپنی کمزوریوں کو طاقت میں بدلنے کی کوشش کریں۔اسی میں ہماری بقا اور کشمیریوں کی آزادی مضمر ہے۔
