Input your search keywords and press Enter.

جموں کشمیر میں سیکورٹی کا نظام تہس نہس

ملی تینسی نے دوبارہ جنم لیا،مرکزی دعوے کہاں گئے؟: عمر عبداللہ
 نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبدا ﷲ نے کہا ہے کہ گپکار الائنس کیلئے این سی نے بہت زیادہ قربانیاں پیش کی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ میں نے اُس وزیر اعظم کیساتھ کام کیا جس نے سرینگر کی سرزمین سے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ دوست بدلے جاسکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ دفعہ 370 کی بحالی کیلئے سبھی سیاسی پارٹیوں کے درمیان اتحاد و اتفاق ناگزیر ہے ۔ کپوارہ میں یک روزہ ورکرس کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ موجودہ حالات سے تمام لوگ پریشان ہیں اور سیکورٹی کا نظام تہس نہس ہے۔ انہو ں نے کہا کہ 5اگست کے فیصلہ کے بعد جمو ں وکشمیر کے آئین ہٹائے گئے اور یہاں کا جھنڈا اُتارا گیا،ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا دفعہ 370اور 35اے جمو ں و کشمیر کی تعمیر و ترقی میں رکاٹ ہے اور جب یہ ہٹے گا تو جمو ں و کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہو گا اور بدلائو آئے گا ۔عمر نے کہا کہ 5اگست کے فیصلہ کے بعد جمو ں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کوبحال کرنے کیلئے یہا ں کی سیاسی پارٹیو ں کے درمیان اتحاد ناگزیر بن گیا اور تما م سیاسی پارٹیو ں نے تمام چھوٹے بڑے اختلاف چھو ڑ کر گپکار الائنس کا قیام عمل میں لایا ۔انہو ں نے کہا کہ مرکزی سرکار نے جو دعوے کئے، اڑھائی سال گزر نے کے باجود بھی تعمیر و ترقی نہ حالات بہتر ہوئے ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ اب ملٹنسی نے دوبارہ جنم لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے جمو ں و کشمیر کی شناخت کو بحال کرنے میں قربانیا ں دیں، ڈی ڈی سی انتخابات میں جہا ں جہاں سیٹیں مانگی گئیں اف تک نہیں کیا ،لیکن کیا پتہ تھا کہ یہ ایک دھوکہ ہے اور ایک ہی مہینے کے بعد سب کچھ بدل گیا ۔عمر عبد اللہ نے کہا کہ مجھے کچھ لوگ تانے دے رہے ہیں کہ عمر عبد اللہ نے سب سے پہلے بی جے پی کے ساتھ گٹھ جو ڑ کیا اور میں اُن کی حکو مت میں وزیر بھی رہا ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میں بی جے پی میں وزیر رہ چکا ہوں، میں بی جے پی کے اس وقت کے وزیر اعظم کے ساتھ کام کر چکا ہوں جس نے جمو ں و کشمیر کے مسئلہ کے حل کے حوالہ سے انسانیت ،جمہوریت اور کشمیر یت کا نعرہ دیا، اور جس وزیر اعظم نے سرینگر مظفر آباد سڑک کو کھو ل دیا اور جس وزیر اعظم نے سرینگر کی سر زمین پر کھڑے ہو کر پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا ،لیکن میں نے اس بی جے پی کیساتھ ہاتھ نہیں ملایا جس کے ساتھ آج چھپا چھپی کے رشتے بنائے جار ہے ہیں ۔عمر عبد اللہ نے کہا’’کہا ں گئی وہ انسانیت جب حیدر پورہ سرینگر میں بے گناہ لوگ مارے گئے اور ہندوارہ میں لاکر ان کو دفن کیا گیا ‘‘۔عمر عبد اللہ نے مزید کہا کہ کیا یہی جمہوریت ہے کہ آج 1ہزار 1سو 20دن ہوئے جب یہا ں کی اسمبلی کو تو ڑ دیا گیا ۔انہو ں نے کہا کہ بڑے بڑے پنچ سر پنچ بنائے گئے لیکن الیکشن لڑنے کے بعد ان کو ہوسٹلو ں ،سکولو ں اور کالجوں میں قید رکھا گیا، کیا اسی کو جمہو ریت کہتے ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ جمو ں و کشمیر میں جس کشمیر یت کی ہم نے پرورش کی اس کشمیریت کی دھجیاں اڑئی جا رہی ہیں ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں جب الیکشن کا بگل بجے گا اس وقت ہم الیکشن کی بات کریں گے، فی الوقت ہم اپنے ورکروں کے ساتھ مل کر پارٹی کے معاملات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے