حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) آزادجموں وکشمیر کے صدر اور ریاست کےسنئیروزیر سردار تنویر الیاس خان نے کہا ہے کہ اپنی اناکے گھوڑے پر سوار مودی نفرت اور جارحیت کے شعلے بھڑکا رہا ہے،ہندوتوا کانفرنس میں اقلیتوں کی نسل کشی کے لیے ماحول بنایا گیا،مقبوضہ کشمیر سمیت بھارت کی دیگر ریاستوں میں مسلمانوں کی نسل کشی صرف ایک مرحلے کی دوری پر رہ گئی ہے، عالمی برادری کی مودی سرکار کی پالیسیوں پر مسلسل خاموشی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری نوٹس لے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےسردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ ہندوتوا سمٹ کے بعد بھارت بھر میں مسلمانوں کی نسل کشی کا ماحول بن رہا ہے،حال ہی میں نسل کشی پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم جو دنیا بھر میں نسل کشی کی پیش بینی کرنے اور اس کا تدارک کرنے کے لیے کام کرتی ہے نے ایک سمینار میں مسلمانوں کی نسل کشی کے دس مرحلے پیش کیے ، اس تنظیم نے بھی وارننگ دی تھی کہ بھارت میں یقیناً نسل کشی کا ماحول بن رہا ہے. انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت میں مطلق العنانی سراٹھا رہی ہے، مودی کاانڈیا ون مین شو بن چکا ہے، مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں جمہوریت دشمن اور فسطائیت مسلط کی جارہی ہے، یہ علاقائی امن اور استحکام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے.
سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ مودی حکومت کے اقدامات نے بھارت کو سیکولر کے بجائے جنونی ہندو ریاست بنا دیا ہے،تنگ نظر اور متعصب بھارت میں مودی کے فیصلوں سے تقسیم گہری ہوتی جا رہی ہے، ہندوتوا کانفرنس بھارت کی اقلیتوں کے لیے سیاسی زہر ثابت ہوگی اور بھارت میں اقلیتوں کی نسل کشی شروع ہو جائے گی. انہوں نے کہا کہ خود کو جمہوریت کا چمپیئن کہلوانے والا بھارت حق آزادی دینے سے انکاری اور کشمیریوں کی نسل کشی کا ذمہ دار ہے،وہ وقت دور نہیں جب کشمیر ی اپنا حق آزادی حاصل کر لیں گے ، تمام تر پابندیوں اور مظالم کے باوجود کشمیری عوام اپنے پیدائشی حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونگے۔
