یورپی یونین کے 21 رکن ممالک نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام کھلے خط میں انسانی حقوق کے کارکنوں خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں یو اے پی اے ایکٹ کے تحت جیلوں میں قید کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ساتھ بھارت کے نائب صدر اور پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے چیئرپرسن وینکائیا نائیڈو، ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھاو ٹھاکرے، بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ ، ایوان زیرین لوک سبھا کے ا سپیکر اوم برلا، بھارت کے چیف جسٹس این وی رامن، ممبئی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس دیپنکر دتہ اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن آف انڈیا کے چیئرپرسن ارون کمار مشرا کوبھی مخاطب کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ہم یورپی پارلیمنٹ کے ارکان بھارت میں انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ہم نے ان لوگوں کے کیسز کو دیکھا ہے جن کو ان کے پرامن کام کی وجہ سے انسداد دہشت گردی کے قوانین سے نشانہ بنایا گیا، ان کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے اوران پر بے جا پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔خط میں بھیما کوریگائوں کیس اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج پر زیر عتاب 28 افراد کا خاص طور سے ذکر کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ان معاملات پر بھارتی حکومت کو پہلے بھی تحریری طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے۔ خط میں 84 سالہ عیسائی پادری ستان سوامی کی دوران حراست موت پر بھی سخت تشویش ظاہر کی گئی ہے۔خط میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لئے بھارتی حکام کی طرف سے انسداد دہشت گردی قوانین کے استعمال کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ کے حاضر اور ریٹائرڈ جج صاحبان نے احتجاج کیا ہے ۔بھارت کی طرف سے مخالفین کے خلاف ڈیجیٹل جاسوسی خاص طور سے اسرائیلی ساختہ جاسوس سافٹ ویئر پیگاسس کا استعمال بھی باعث تشویش ہے۔
مقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کے کارکنوں ،قیدیوں سے ناروا سلوک ،یورپی ممالک کا اظہار تشویش
