Input your search keywords and press Enter.

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کی تقریب تقسیم اسناد(1)

تقریب کے مہمانِ خصوصی علامہ ڈاکٹر سید شفقت شیرازی تھے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر قلم فرسائی کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ملک کی تازہ ترین صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔ انکے مطابق پاکستان کو استعماری طاقتوں کے چنگل اور غلامی سے نجات دلانا یہ ہر فرزندِ پاکستان کی اوّلین خواہش ہے۔


گذشتہ روز سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے زیرِ اہتمام تقریب تقسیم اسناد منعقد ہوئی۔ تقریب کا انعقاد قم المقدس میں ہوا۔ تلاوت قرآن مجید کا شرف محترم عارف بلتستانی نے حاصل کیا۔ پروگرام کا افتتاحیہ پڑھتے ہوئے آغا نذر حافی نے معزز مہمانوں کو اس تقریب میں خوش آمدید کہا اور مقبوضہ کشمیر پر قابض استعمار کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے سے معزز قلمکاروں کی کاوشوں اور جدوجہد کو سراہا۔ ان کے بعد اراکین اجلاس نے علم، قلم، معاشرے اور استعمار شناسی کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی۔ قلمکار حضرات نے اس موقع پر حضرت امام حسن ؑ کو اپنے لئے ایک بہترین نمونہ عمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسنؑ نے اپنے قلم سے جبر و استبداد کو بے نقاب کیا۔ معزز دانشوروں کی طرف سے صلح حدیبیہ اور صلح امام حسن ؑ کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا۔

تقریب کے اختتام پر سپورٹ کشمیر فورم کی طرف سے بہترین لکھاریوں اور سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کی فعالیت کیلئے جدوجہد کرنے والی شخصیات کو اعزازی اسناد سے بھی نوازا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مہمان خصوصی نے اس موقع پر محمد بشیر دولتی، جواد پاروی، ابراہیم شہزاد، محمد صادق جعفری، محمد حسین چمن آبادی، سید علی کمیل گردیزی، عارف بلتستانی، محمد علی شریفی، آفتاب علی اتحادی، ناصر حسینی، افتخار نقوی، عبد الحمید منتظر، رجب علی، سید ذہین کاظمی، منظوم ولایتی، اکبر ترابی، تنویر مطہری اور منظور حسین حیدری کو اپنے ہاتھوں سے اسناد اور شیلڈز عطا کیں۔ تقریب کا اختتام مظلوم کشمیریوں اور فلسطینوں کی آزادی، وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی اور حضرت امام مہدی ؑکے ظہور کی دعا و افطاری کے ساتھ کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے