سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کا اجلاس ،حرّیت کانفرنس کے سابق چیئرمین مولوی عباس انصاری مرحوم کی حیات اور خدمات ، مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم اور ایران میں شاہ چراغ کے مزار پر دہشت گردانہ کارروائی کی مناسبت سے اجلاس منعقد۔
مرحوم مولوی عباس انصاری کو خراجِ عقیدت، مقبوضہ کشمیر کے مظلومین سے اظہارِ یکجہتی اور ایران میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائی اور بے گناہ انسانوں کی مذمّت۔
تفصیلات کے مطابق یہ اجلاس گزشتہ روز ایران کے شہر قم میں ہوا۔اس موقع پر فورم کے مسئول آ غا نذر حافی نے تین نکات پر مشتمل اپنا صدارتی خطبہ بیان کیا۔ آپ نے کشمیر کی سرخیز سرزمین سے تعلق رکھنے والی شخصیات خصوصاً مولوی عباس انصاری کی خدمات، نیز کشمیر کی اسلامی و جغرافیائی اہمیت، ایران میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے آغاز اور ان کارروائیوں کے منطقے پر اثرات ، اور مسئلہ کشمیر کو فراموش کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ دارویوں کی نوعیّت کے اعتبار سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے دربار شاہ چراغ سے لے کر کشمیر اور فلسطین تک، استعماری طاقتیں اپنے مذموم مقاصد کیلئے بے گناہ انسانوں کا خون بہانے میں مصروف ہیں۔ استعمار کا مقابلہ بیداری اور احساسِ ذمہ داری کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بیداری اور احساسِ ذمہ داری کے ضمن میں اس نکتے کو اٹھایا کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کو دنیا بھر میں فراموش کر دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق اور جمہوریّت کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے جتنی اہمیت مہسا امینی کے مسئلے کو دی ہے، کبھی اتنی اہمیّت بھی کشمیر کے مسئلے کو نہیں دی۔
اس تجزیاتی نشست کے دوران فاضل محقق بشیر دولتی نے اپنے تجزیے میں جہاں اہلیانِ کشمیر کی بیداری، اسلام کیلئے قربانیوں اور مقاومت کو سراہا وہیں مولوی عباس انصاری مرحوم کو بھی زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولوی عباس انصاری مرحوم آزادی، استقامت اور جدوجہد کا استعارہ ہیں۔
نشست کے مہمانِ خصوصی حجۃ الاسلام ڈاکٹر احمد میر کشمیری نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کے حوالے سے جہانِ اسلام میں پائی جانے والی سرد مہری کے اسباب اور نتائج پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بلادِ اسلامیہ کا حصہ ہے لیکن کشمیری اپنی ہی سرزمین پر آزاد نہیں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر ایک بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مسلمانوں نے اور خصوصا پاکستانی مسلمانوں نے عید میلادالنبی ؐ کے جلسے جلوسوں میں بھی کشمیر کی آزادی کیلئے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ انہوں نے مسلمانوں سے یہ اپیل کی کہ اپنے تمام تر جلسے جلوسوں، احتجاجات، پروگرامز اور محافل میں مسئلہ کشمیر کو سرِ فہرست رکھیں۔
ناظم اجلاس محترم منظوم ولایتی نے اجلاس کی کارروائی کو منضبط کرنے کے بعد خلاصہ بھی حاضرین کی خدمت میں پیش کیا۔
