Input your search keywords and press Enter.

آج_کی_بات

تجزیہ وتحلیلی نشست

منظوم ولایتی

آج سہ پہر ۴ بجے حوزہ علمیہ قم المقدس میں سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے زیرِ اہتمام  مقبوضہ کشمیر کے معروف  تحریکِ حریت کے رہنما مولانا عباس انصاری کی رحلت، پاکستان کے موجودہ حالات اور  ٢٧ اکتوبر یومِ سیاہ و  کئی دہائیوں پر محیط کشمیر  میں ہندوستانی  قابض فوج کے نہتے مظلوم مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے ایک تجزیہ و تحلیلی نشست کا انعقاد کیا گیا۔

 نشست سے  کشمیر سپورٹ انٹرنیشنل فورم کے روحِ رواں محترم نذر حافی، مقبوضہ کشمیر کے رہنما فردوس احمد میر،  کالم نگار محمد بشیر  دولتی اور  کشمیری رہنما فراز نقوی نے خطاب کیا۔مقررین نے مولانا عباس انصاری رح کی تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سےانجام دیبے والی خدمات پر روشنی ڈالی۔محترم نذر جافی صاحب نے نشست میں افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ امام خمینی رح کا انقلاب ایک اسلامی انقلاب ہے جس نے حریتی تحریکوں کو ایک نیا جزبہ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ بدقسمتی سے ابھی تک امام خمینی رح کے لائے ہوئے اسلامی انقلاب  جو  ایک جمہوری اسلامی کی شکل میں وجود میں  آیا، سے ہم نے ابھی تک دنیا کو ڈیموکریسی اور تھیوکریسی میں فرق تک کو نہیں سمجھایا ہے۔ یہی وجہ ہے لوگ اسلامی ڈیموکریسی اور تھیوکریسی سمجھ رہے ہیں۔آپ نے مزید فرمایا کہ  امام خمینی رہ نے جہاں  اتحاد امت اور عالمی ایشوز کو زندہ کیا وہیں آپؓ نے کشمیر کو بھی خصوصی اہمیت دی۔

بعد از آں محقق و کالم نگار محمد بشیر دولتی نے اس حوالے سے تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریکِ حریتِ کشمیر میں عباس انصاری مرحوم کا  ایک بڑا نام  ہے۔جنہوں نے نجف اشرف سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد سے لیکر عمر کے آخری حصے تک  تحریک کو طاقتور بنانے کیلیے اپنے آپ کو وقف کیا  اور دوسرے حریت رہنماوں سے ملکر تحریک کو مضبوط کرنے کیلیے  اپنی فعالیتیں جاری رکھیں۔محمد بشیر دولتی صاحب نے مزید کہا کہ  عباس انصاری مرحوم تحریک کے اندر دوسرے اہلسنت علماء و رہنماوں کے ساتھ اتحاد و وحدت کے جہاں پرچاک تھے وہیں مرحوم تشیع کا بھی ایک نمایاں چہرہ تھے۔ جس کی ملت کشمیر قدردان دکھائی دیتی ہے۔

 اس کے بعد مقبوضہ کشمیر سے ہی تعلق رکھنے والے معروف رہنما آغا فردوس احمد میر نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ  جہاں تک دین اسلام کو میں سجھا ہوں اس کا خلاصہ اور روحِ اسلام یہ ہے کہ مظلوم کی طرفداری کی جائے اور ظالم کی کھل کر مخالفت کی جائے۔اس کے بعد فردوس احمد میر نے تفصیل سے ہندوستانی فوج کے ہاتھوں ہونے مظالم کا تفصیل سے ذکر کیا۔ خاص طور پر ۵ اگست ٢٠١٩ء کے بعد شروع کیے جانے والی سازشوں پر بات کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری زمینیوں کو متعصب ہندوں کو بیچا جارہا ہے اور ہمارے اوپر دباو ڈال کر ہندوستانی پرچم کو اپنے گھروں پر نصب کرنے پر بھی مجبور کیا جارہا ہے۔نشست کے آخری اسپیکر محترم فراز نقوی نے جہاِد تبیینی پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں  حتی الامکان کشمیر کے حوالے سے حقائق کو  دبیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سارے لوگ اب بھی بھارتی مظالم سے باخبر نہیں ہیں۔آخر میں مرحوم مولانا عباس انصاری کے ایصالِ ثواب کیلیے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کے درجات کی بلندی کیلیے خصوصی دعائیں  بھی مانگی گئیں۔ اس کے بعد ناظمِ نشست نے  شرکاء کا خصوصی طور  شکریہ ادا کیا اور   یوں یہ تحلیلی نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔ یاد رہے کہ اِس تجزیہ وتحلیلی نشست میں نظامت کے فرائض منظوم ولایتی نے انجام دیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے