Input your search keywords and press Enter.

آہ! مولانا عباس انصاری

بقلم: نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

مشہور و مقبول کشمیری رہنما اور اتحاد بین المسلمین کے داعی مولوی محمد عباس انصاری مرحوم  نجفِ اشرف عراق کے فارغ التحصیل تھے۔ ۱۹۶۱ میں وہ عراق سے  وطن واپس لوٹے اور انہوں نے سال۱۹۶۲ میں اپنی دینی و قومی سرگرمیوں کو ادا کرنے کیلئے  جموں وکشمیر اتحادبین  المسلمین کی بنیاد ڈالی۔ مرحوم مولانا محمد عباس انصاری متحدہ مسلم محاذ کے کنوینر بھی رہے ہیں اور وہ محاز رائے شماری کے آخری زندہ  لیڈر تھے۔ آپ جہاں حریت کانفرنس کے بانی رکن اور  سابق چیئرمین تھے وہیں مسلم یونائیٹڈ فرنٹ ، جمعیت اتحاد المسلمین اور العباس ریلیف ٹرسٹ جیسے متعدد اداروں کے بھی بانی یا سرپرست شمار ہوتے تھے۔ وہ ساری زندگی  سیاست کی دنیا میں انتہائی نپے تلے اور سنجیدہ افکار کے حامل سیاستدان کے طور پر مقبول رہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی ایک موثر آواز سمجھاگیا۔ دسمبر 1963 میں، مولانا انصاری نے اس وقت کلیدی کردار ادا کیا جب کشمیر میں حضرت بل کے مزار سے موئے مقدّس  کے لاپتہ ہونے کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ اور ایک عوامی تحریک چلی، اس وقت مولانا انصاری نے عملاً سیاست کی دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔ تاریخی اسناد کے مطابق جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے ۱۹۷۵ میں اندرا گاندھی کے ساتھ دہلی ایم او یو پر دستخط کیے تو مولانا عباس انصاری نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔ انہوں نے دسمبر ۱۹۷۴ میں دہلی میں شیخ عبداللہ سے ملاقات کی اور انہیں سمجھوتہ نہ کرنے کو کہا ۔انہیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کے اعلی سطحی رہنماوں کے ساتھ ملاقات کا موقع بھی ملا۔ جدوجہد آزادی کی وجہ سے وہ ساری عمر  مقبوضہ کشمیر پر قابض ہندوستانی فورسز کے عتاب کے شکار رہے۔ اُنہیں متعدد مرتبہ  جسمانی و ذہنی ٹارچر نیز قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔  مرحوم مولانا ایک سیاسی دانشور، ہر دلعزیز خطیب اور بابصیرت رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ  دو درجن سے زائد  کتابوں کے مصنف بھی تھے، جن میں سے تخلیق آدم، انسان کامل، نبوت ورسالت اور خود نوشتہ سوانح حیات ’خار گلستان‘ جو کچھ برس قبل ہی منظر عام پر آئی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے ۲۵ اکتوبر۲۰۲۲ کو ۸۶ سال کی عمرمیں طویل علالت کے بعد منگل کی صبح اپنی رہائش گاہ واقع خانقاہ سوختہ نوا کدال ﴿ سری نگر ﴾میں وفات پائی۔ انھیں ان کے آبائی قبرستان بابامزار جدیبل میں ان کے ہزاروں چاہنے والوں کی موجودگی میں سپردخاک کیا گیا۔ اس کے علاوہ ہندوستان ، پاکستان اور ایران سمیت دنیا کے متعدد  ممالک میں اہم شخصیات نے اُن کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور تعزیتی اجلاس و کانفرنسز منعقد ہوئیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیر شاخ کے زیر اہتمام غائبانہ نماز جنازہ میں  زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔مظفر آباد ، کوٹلی اورآزادجموں و کشمیر کے دیگر شہروںمیں بھی مرحوم کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

 

نماز جنازہ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ کے رہنما غلام محمد صفی نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ نماز جنازہ میں میر طاہر مسعود ، محمود احمد ساغر ، محمد فاروق رحمانی ، سید فیض نقشبندی ، سید یوسف نسیم ، ، محمد رفیق ڈاراور کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیرشاخ کے دیگر رہنماﺅں کے علاوہ تارکین وطن پاکستانی نمائندے غلام محمد بٹ اور ہیومن رائٹس کونسل پاکستان کے رہنما جمشید حسین بھی شریک تھے۔

اس موقعپر ایران کے شہر قم المقدس میں بھی سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے زیرِ اہتمام  ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں مرحوم کی حیات اور خدمات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شرکائے اجلاس نے اُن کی جدوجہد کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔  یوں دنیا بھر میں مرحوم کی مغفرت، درجات کی بلندی اور ان کے لواحقین خصوصاً اُن کے فرزند ارجمند  مولانا مسرور عباس انصاری  اور ملّتِ کشمیر سے اظہارِ تعزیت کیا گیا۔

نوٹ:۔ اس رپورٹ کی تیاری میں مختلف  اداروں کی جمع کردہ معلومات سے مدد لی گئی ہے۔ جس پر ہم ان سب کے شکر گزار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے