کراچی (اسٹاف رپورٹر )فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان اور آرٹس کونسل کراچی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے عظیم حریت رہنما مولانا عباس انصاری کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا اور کشمیر و فلسطین کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام فلسطین اور کشمیر کاز کے ساتھ ہیں، مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کے امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔ کانفرنس سے سابق اراکین سندھ اسمبلی محفوظ یار خان، میجر (ر) قمر عباس، مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صدر علامہ باقر عباس زیدی، تحریک انصاف کے رہنما اسرار عباسی، کشمیری رہنما بشیر سدوزئی،تحریک اللہ اکبر کے حافظ امجد، معروف قانون دان حیدر امام، میجر عدیل شہید کے والد سید شاہد حسین، جمعیت علماء پاکستان کے علامہ وحید یونس، علامہ قاری ادریس، ہندو رہنما منوج چوہان، اویس ربانی، نازیہ علی، ہیومن رائٹس کونسل کے صدر جمشید حسین، خاتون سماجی رہنما ریحانہ عزیز، نسرین میمن، دعا فاؤنڈیشن کی صدر دعا ذبیر، کشمیری رہنما عباس کشمیری، فرحان علی ایڈوکیہٹ، زاہد حسین ایڈوکیٹ، شاہدہ علی، نبیل حسین سمیت سول سوسائٹی اراکین نے خطاب کیا۔کانفرنس سے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور سول سوسائٹی اراکین نے شرکت کی اور خطاب کیا۔ مقررین نے حریت کانفرنس کے سابق چیئر مین اور جدوجہد آزادی کشمیر کے علمبردارمولانا عباس انصاری کی کشمیر کی آزادی کیلئے کی جانے والی انتھک محنت اور بہادرانہ جدوجہد پر خراج عقیدت پیش کی۔ کانفرنس کے شرکاء سے سری نگر میں موجود مولانا عباس انصاری کے صاحبزادے سجاد انصاری نے ٹیلی فونک خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ ایک نئے تاریخی موڑ میں داخل ہو چکا ہے جہاں کشمیری عوام کو ایک طرف بھارت کی جارحیت اور درندگی کا سامنا ہے، امریکا اور برطانیہ جو دنیا بھر میں سیاسی و فوجی مسائل کی اصل جڑ ہیں آج مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا مقصد مسئلہ کشمیر کو سبوتاز کرنا ہے۔
