جموں و کشمیر: سرکاری اراضی سے ناجائز تجاوزات ہٹانے کے حکم نامہ نے نئے احتجاج کو دیا جنم، جانئے پورا معاملہجموں و کشمیر: سرکاری اراضی سے ناجائز تجاوزات ہٹانے کے حکم نامہ نے نئے احتجاج کو دیا جنم، جانئے پورا معاملہ
پی ڈی پی، ڈیموکریٹک آزاد پارٹی اور سی پی آئی جیسی سیاسی جماعتوں نے سرکار کے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے ۔ ان پارٹیوں کا کہنا ہے کہ سرکار بے وجہ جموں و کشمیر کے عوام کو پریشان کر رہی ہے۔
جموں : جموں و کشمیر سرکار کی طرف سے سرکاری اراضی سے ناجائز تجاوزات ہٹانے کے حکم نامے نے یوٹی میں ایک نئے احتجاج کو جنم دیا ہے۔ پی ڈی پی، ڈیموکریٹک آزاد پارٹی اور سی پی آئی جیسی سیاسی جماعتوں نے سرکار کے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے ۔ ان پارٹیوں کا کہنا ہے کہ سرکار بے وجہ جموں و کشمیر کے عوام کو پریشان کر رہی ہے۔ جموں میں آج ان پارٹیوں نے الگ الگ احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کرکے سرکار سے یہ حکم نامہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ ان پارٹیوں کا کہنا ہے کہ سرکار اگر روشنی ایکٹ کے تحت لوگوں کوفراہم کی گئی زمینوں سے قبضے ہٹانے کی بات کرتی ہے تو یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ جن لوگوں کو اس ایکٹ کے تحت قانونی طور پر اراضی کے حقوق دئے گئے ہیں، ان کے ساتھ یہ ناانصافی نہیں ہونی چاہئے۔
ان پارٹیوں کا کہنا ہے کہ سرکار کو اگر سرکاری زمین سے ناجائز قبضہ ہٹانا ہی ہے تو بڑے لینڈ مافیا پر قدغن لگانی چاہئے اور غریب اور نادار لوگوں کی زمینوں کو ہاتھ نہیں لگانا چاہئے۔ ان پارٹیوں کے لیڈران کا کہنا ہے کہ رسوخ دار لوگوں نے بڑی بڑی سرکاری زمینوں پر جو قبضے کئے ہیں، اسے ہٹایا جانا چاہئے نہ کہ ان غریب لوگوں سے زمین چھینی جائے جنہیں دو دو چار چار مرلے مکانات تعمیرکرنے کے لئے روشنی ایکٹ کے تحت فراہم کئے گئے ہیں ۔ سی پی آئی کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے سرکار کے اس حکم نامے کو غریب لوگوں کو تنگ کرنے سے تعبیر کیا ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ سرکار کو یہ فیصلہ جلد واپس لے کر غریب لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا چاہئے۔ ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کے سینئر لیڈر آر ایس چب نے جموں میں اس سلسلے میں احتجاجی مظاہرے کی قیدات کرنے کے دوران کہا کہ یہ اقدام جموں و کشمیر کے غریب لوگوں کو مزید مُصیبتوں میں ڈالنے کا موجب بن جائے گا ۔ لہذا اس حکم نامے کو جلد واپس لیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں بھی زیر سماعت ہے، لہذا فی الحال اس حکم نامے کو التوا میں رکھا جانا چاہئے۔ پردیش کانگریس ، ڈوگرہ فرنٹ اور شیوسینا نے بھی جموں میں احتجاجی مظاہروں کا آج اہتمام کیا اور سرکاری اراضی سے قبضہ ہٹانے کے سرکلر کو جلد واپس لینے کا سرکار سے مطالبہ کیا۔
