Input your search keywords and press Enter.

اقوام کی بصیرت افزائی میں قلم کی اہمیت

 

منظوم ولایتی

مجلسِ مذاکرہ کا موضوع ” اقوام کی بصیرت افزائی میں قلم کی اہمیت ” تھا۔ ہر سال  ١١فروری کو سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کی جانب سے اس مجلسِ مذاکرہ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ دن کشمیر اور ایران کیلئے انتہائی اہمیت کا دن ہے۔ کشمیر میں اس یوم کو مقبول بٹ شہید کی شہادت کی نسبت سے اورایران میں ہزاروں شہیداکے خون کی برکت سے اسلامی انقلاب کی کامیابی کی وجہ سے خاص اہمیّت حاصل ہے۔بصیرت افزائی، نظریہ پردازی  اور فکری رُشد  کے اعتبار سے ایران میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی یہ  ایک منفرد نشست ہے۔اس میں محققین  موضوع کی رعایت کرتے ہوئےنظریاتی، تاریخی اورتحقیقی عناوین پر اپنے مقالات پیش کرتے ہیں۔اس مرتبہ بھی  تلاوتِ قرآن مجید کی سعادت قاری منظور حسین حیدری نے حاصل کی۔ اُن کے بعد برادر عارف بلتستانی نے مجلسِ مذاکرہ کا ابتدائیہ بیان کیا۔انہوں نے اپنے ابتدائیے میں قلم اوربصیرت کے تعلق اور  ملت کشمیر و ایران کی بیداری میں قلم کے کردار پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں مجلسِ مذاکرہ میں   محترم آفتاب تحادی،  محترم محمد علی شریفی، محترم سید فراز نقوی،  محترم چمن آبادی، محترم سید ناصر حسینی، سید کمیل گردیزی، تنویر عباس، حیدر علی ڈومکی، سید فصیح حیدر اور منظور حیدری نےحصہ لیا۔

مزیداینکہ صدائے کشمیر فورم اور  سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے روحِ رواں محترم ڈاکٹر نذر حافی صاحب نے  اپنا مقالہ پیش کیا۔ ان کے مقالے کا عنوان "غداروں کی نشاندہی چک خاندان سے مقبول بٹ کی شہادت تک” تھا۔ اپنی تحقیق  میں  محترم نذر حافی صاحب نے کہا کہ صرف کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کافی نہیں بلکہ کشمیریوں کی غُلامی کے حقیقی اسباب کو تلاش کرنا اور اُن سے آگاہی ضروری ہے۔ ان کے مطابق کشمیر کے چک خاندان اور مقبول بٹ شہید کے ساتھ غدّاری کی وجہ سے کشمیر آج تک غلام ہے ۔ انہوں نےکہا کہ کشمیری ایک متمدن قوم ہیں اور ان کے دامن میں یوسف شاہ چکؒ، علامہ اقبالؒ، امام خمینیؒ  اورمقبول بٹ شہید جیسے شہرہ آفاق ہیرو موجود ہیں۔  اگر حضرتِ امام خمینیؒ کے افکار و نظریات ملتِ ایران کو اڑھائی ہزار سالہ بادشاہت سے نجات دلاسکتے ہیں تو ملتِ کشمیر بھی ان افکار پر عمل پیرا ہو کر غلامی کی زنجیروں کو توڑ سکتی ہے۔ انہوں نے بصیرت کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ پاکستان ساری دنیا میں کشمیریوں کا وکیل ہے اور شہید مقبول بٹ ہم سب کے ہیرو ہیں۔

مجلسِ مذاکرہ میں نظامت کے  فرائض  راقم الحروف ﴿منظوم ولایتی ﴾نے انجام دیتے ہوئے انقلابِ اسلامی کی ۴۴ویں سالگرہ کے موقع پر پوری دنیا کے مظلوم اور  پابرہنہ لوگوں اور خاص طور پر  ایران کی انقلابی ملت کو ہدیہ تبریک پیش کیا گیا۔اس کے علاوہ مجلسِ مذاکرہ کے شرکا کی گفتگو کا خلاصہ کرتے ہوئے میں نے یہ نتیجہ بھی نکالا کہ  قلم اور بصیرت کا گہرا تعلق ہے۔ اگر ہم مظلوم کشمیریوں سے حقیقی ہمدردی رکھتے ہیں تو ہمیں اپنے قلم کے ساتھ اُن کی مدد و نصرت کرنی  چاہیے۔

اس موقع پر حاضرین نے کشمیریات کے موضوع پر  ایک خصوصی مجلّے    ‘سپورٹ کشمیر میگزین’ اور سپورٹ کشمیر  ویب سائٹ کے اجرا کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہ کہ ا ایسے میگزین اور ویب سائٹ کی محققین اور  لکھاریوں کو اشد ضرورت تھی۔ میگزین و ویب سائٹ کے    مدیر اعلیٰ ڈاکٹر نذر حافی صاحب اور مدیر منتظم محترم اشرف سراج گلتری صاحب نے اسے ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیا اور حوصلہ افزائی و داد و تحسین پر  سب کا شکریہ ادا کیا۔

یاد رہے کہ مجلسِ  مذاکرہ  کے مہمان خصوصی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری امور خارجہ علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی  تھے۔ جنہوں نے اپنے خطاب میں بصیرت شناسی کے باب میں ‘دشمن شناسی’ کو اِس کا پہلا سبق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں حال کی الجھنوں میں مشغول ہوکر اپنے ماضی سے کبھی بھی بےخبر نہیں رہنا چاہیے بلکہ تاریخ کو آئینہ قرار دے کر حال سے  درس لینا چاہیے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے