Input your search keywords and press Enter.

تبلیغی نیٹ ورکس کو باہمی آشنائی، علمی و عملی اشتراک نیز کشمیر کے تبلیغی و دینی مشاہیر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم

 

گزشتہ روز سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم نے پاکستان میں مبلغین اسلام کی خدمات اور فعالیت سے آشنائی کیلئے ایک معلوماتی نشست کا اہتمام کیا۔  

اس موقع پر مؤسسہ باقرالعلوم کے مدیر حجۃ السلام علامہ فدا علی حلیمی نے مؤسسہ باقرالعلوم کی تبلیغی فعالیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مؤسسے میں مبلغین کی تربیت کیلئے تحقیقی، تعلیمی اور تالیفی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنے ادارے کی تالیفات میں سے رؤیت ہلال، مدیریت مسجد، سیرت معصومین علیہم السلام اور اسلام کا سیاسی نظریہ جیسی کتب کا خاص طور پر ذکر کیا۔

انہوں نے نئے مبلغین کیلئے ارتوی کوثر کے نام سے شارٹ کورسز کی اہمیت بھی بتائی۔

اسی طرح ماہ رمضان المبارک اور محرم الحرام میں تبلیغی فرائض انجام دینے والے مبلغین کے لئے احکام و روش تبلیغ کے کورسسز سے بھی حاضرین کو آگاہ کیا۔

 

ان کے بعد جامعۃ الرضا ع اسلام آباد کے شعبہ تبلیغات کے کوارڈینیٹر حجۃ السلام مولانا نقی عمران جعفری صاحب نے حاضرین کو اپنے ادارے کی تبلیغی فعالیت سے مطلع کیا۔ آپ نے بتایا کہ ہر سال ماہ رمضان میں اور ماہ محرم الحرام سے پہلے محتلف شہروں میں شارٹ کورسز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ 

ان ایام میں جو دینی طلبا ہم سے رابطہ کرتے ہیں ہم ان کیلئے تبلیغی مقامات پر جگہ بھی بناتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ادارے کے مختلف قرآن سنٹرز کی فعالیت پر بھی روشنی ڈالی۔

 

 اس موقع پر محترم حجۃالاسلام ڈاکٹر گلزار جعفری صاحب بھی نے اپنی تبلیغی خدمات اور تجربات کے حوالے سے گفتگو کی۔

 انہوں نے قم المقدس میں اپنے تعلیمی کیرئر کے دوران مجلہ امید اور ادارہ امید کی بنیاد رکھنے نیز مجلس وحدت مسلمین قم کی مسئولیت کے دوران کے تنظیمی تجربات بھی بیان کئے۔ انہوں نے باصلاحیت افراد کی تلاش، شناخت اور ٹیم ورک کی اہمیت پر زور دیا۔

پاکستان میں اپنے ادارے مصباح الرضا انسٹیٹیوٹ کی افادیت، انفرادیت اور اہمیت پر اجمالی روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جو کچھ کرنا ہے اس کا علمی کام اور عملی تجربہ حوزہ علمیہ قم میں انجام ضرور دیں ۔ 

ساتھ ہی انہوں نے فضائے مجازی اور سوشل میڈیا سے بھرپور استفادہ کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے آنلائن کوئز مقابلہ جات اور مختلف موضوعات پر ورکشاپس کا اہتمام کرنے کے حوالے سے اپنی فعالیت بھی بیان کی۔ 

علاؤہ ازیں انہوں نے بتایا کہ جامعہ بعثت کے زیر اہتمام انہوں نے سندھ اور بلوچستان میں کلاس اول تا دھم کیلئے ایک تربیتی سلیبس مرتب کیا جس سے تقریبا پندرہ ہزار طلبا مستفید ہو رہے ہیں۔

 

اس اجلاس میں مجلس علماء امامیہ پاکستان و مجلس ذاکرین و خطباء امامیہ کے مدیر محترم حجۃالاسلام مولانا ذاکر ضیغم عباس صاحب بھی موجود تھے۔ انہوں نے پاکستان کے مختلف اضلاع میں اپنے تبلیغی نیٹ ورکس کا تعارف کرایا۔ 

انہوں نے بتایا کہ علما کے نیٹ ورک کی مانند انہوں نے خطبا و ذاکرین کیلئے بھی مجلس ذاکرین و خطباء امامیہ کے نام سے ایک پلیٹ فورم تشکیل دے دیا ہے۔ خطبا و ذاکرین کی طرف سے اس پلیٹ فورم کے قیام کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عوام کے درمیان بھائی چارے، اخوت اور افہام و تفہیم کی مثالی فضا ہے۔ یہ فضا تبلیغ دین اور اخلاقی تربیت کیلئے بہت سازگار ہے۔

 

جامعہ روحانیت بلتستان کے شعبہ تحقیق کے مسؤل اور مجلس شوریٰ کے رکن مولانا بشیر دولتی صاحب نے اس موقع پر جہاں اپنی فعالیت سے آگاہ کیا وہیں مبلغین کیلئے تحقیق کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا تحقیق کرنے اور تحقیق کو پھیلانے کا بہترین وسیلہ ہے۔ 

 آج کی دنیا میں ہر مبلغ کیلئے محقق ہونا ضروری ہے۔ تحقیق کے بغیر کی ہوئی بات دین کیلئے مفید سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ 

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے سیکرٹری جنرل نذر حافی نے اس موقع پر سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم، سپورٹ کشمیر کی میگزین ٹیم، ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور خارجہ کے شعبہ ابلاغ عامہ اور وائس آف نیشن کا اجمالی تعارف کرایا۔ انہوں نے غلامی سے نفرت، آزادی کا شعور، مظلوموں کی حمایت، کشمیر کی جدوجہد آزادی اور اس جیسے چند دیگر موضوعات کو تبلیغی نصاب میں شامل کرنے کی اہمیت پر گفتگو کی۔ 

بعد ازاں محترم منظور حسین حیدری، اشرف سراج اور رفیق انجم نے مہمان تبلیغی مسئولین سے مختلف سوالات بھی کئے۔ نشست کے اختتام پر مہمان مسئولین نے اس پر اتفاق کیا کہ تبلیغی نیٹ ورکس کو باہمی طور پر، آشنائی کیلئے نیز علمی و عملی اشتراک کیلئے اقدامات کرنے چاہیے۔ انہوں نے کشمیری شہدا، ان کی قربانیوں سے آشنائی، کشمیر کے اسلامی مشاہیر کے تعارف اور کشمیری علماء کی تبلیغی خدمات کو بھی تبلیغی نصاب میں شامل کرنے کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے