بھی کشمیر کبھی گلگت بلتستان کے لوگوں سے الجھتے ہیں۔ ان کی زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔ ان کو آئینی شناخت نہیں دیتے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ حیات کہا گیا۔ کشمیریوں کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے۔ جس طرح پاکستان کے علاقوں میں لوگوں کے مینڈیٹ کو ٹھڈے مار کر پرے پھینکا جاتا ہے اور اپنی مرضی کے حکمران ٹھونسے جاتے ہیں۔جی بی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ عوام کی منتخب حکومت کو گرایا گیا اور لوٹوں کو مسلط کیا گیا۔ کشمیر کے لوگوں کو وہ حقوق نہیں مل رہے جو متنازع علاقے کے حقوق ہوتے ہیں۔ کشمیری بھائی کہتے ہیں کہ بجلی یہاں بنتی ہے ہم سستی دو آئی ایم ایف سے قرضے لے کے بجلی مہنگے کرتے ہو۔ بجلی، پٹرول، ڈیزل، گندم سب کچھ مہنگا کر دیا گیا۔ اگر تم یہاں پر گندم کے حوالے سے کام کرتے تو پاکستان میں گندم کی مطلوبہ مقدار پیدا ہو جاتی ہے۔ پاکستان زرعی ملک ہے۔ اب ان کو مارو مت ان کی بات سنو۔ لوگوں کے اندر کئی سالوں کا غصہ موجود ہے۔ یہ ایک دو دن کی بات نہیں ہے۔ تم نے ناراض کیا انہیں، تم نے انہیں چھوٹا، حقیر اور پست سمجھا۔ اج کشمیر کے لوگوں پر گولیاں جلتی ہیں۔ ان کے ساتھ ملو بات کرو ۔یہ پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ انہیں مایوس نہ کرو جو بھی ان کے ان کو مایوس کر رہا ہے وہ پاکستان کا دوست نہیں ہے۔ وہاں پر اس وقت حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے جیسے پورے پاکستان میں لیک آف ریٹ ہے۔ آپ بلوچستان کو دیکھ لو کیا حالت ہے۔ سندھ کو دیکھ لو۔ کراچی کو دیکھ لو وہاں دن دھاڑے ڈاکے پڑتے ہیں۔ لوگ قتل ہو رہے ہیں کچے کے ڈاکو لوگوں کے بچوں کو اٹھا کے لے جا کر قتل کر رہے ہیں۔ بھتہ لے رہے ہیں۔ کوئی پوچھ نہیں رہا اب لوگ تنگ آچکے ہیں۔ تنگ آمد بجنگ آمد ہوتا ہے۔ جن کے پاس طاقت ہے میں انہیں کہتا ہوں خدا کے لیے مزید آگے نہ بڑھو اس وطن کا خیال رکھو۔ ہر وہ کام جس سے انڈیا طاقتور اور پاکستان کمزور ہو اس سے انڈیا علاقے کا اسرائیل بنے۔ 25 26 کروڑ عوام کا ایٹمی ملک پاکستان سرجیکلی اپ جگہ پر واقع ہے اور ساؤتھ ایشیا کے اندر، اس خطے کے اندر طاقت کا توازن بحال رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کمزور ہونے سے طاقت کا توازن بگڑ جائے گا ابھی انڈیا نے ہماری علاقائی حدود میں داخل ہو کر بیس بائیس افراد مارے ہیں۔ گارڈین نے خبر نشر کی ہے انڈین وزیر دفاع نے اعتراف کیا ہے۔ یہاں کوئی کیوں بولتا نہیں ہے۔ ہمیں اپنوں سے نہیں انڈیا سے لڑنا چاہیے۔ ہمیں کشمیر آزاد کروانا چاہیے تھا۔ ہمیں کشمیری مظلوموں کے ساتھ دینا چاہیے تھا۔ کشمیر کے مظلوموں کے ساتھ بات چیت کرو دشمن کو فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دو۔ اسے طولانی نہ ہونے دو۔ان سے بات چیت کرو۔ کشمیری اس وطن کے باوفا بیٹے اور سرحدوں کے محافظ ہیں۔ جیسے چمن کے لوگ ہیں وہ بھی پاک افغان بارڈر پر مدت سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان پر بھی ظلم ہو رہا ہے ان کے ساتھ بھی گھناونا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ لہذا کشمیر کے لوگوں کو ہم تنہا نہیں چھوڑیں گے وہ ہمارے بھائی ہیں ہماری جانیں ان پر فدا ہوں۔ ہم ان کے ساتھ ہیں ہم کبھی بھی ان پر ظلم کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیں گے انشاءاللہ۔ مجھے امید ہے وہاں کی حکومت بھی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں گی۔ یہ لوگ بڑے سخی ہیں بڑے دل والے ہیں یہ ٹھیک کر لیں گے جیسے جی بی کے لوگ ہیں وہ سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن پاکستان سے محبت کی وجہ سے صبر کرتے ہیں برداشت کرتے ہیں لہذا ہم سب کی ذمہ داری ہے ہم میدان میں حاضر ہیں ہم نے پاکستان کو کمزور نہیں ہونے دیتا
آزاد کشمیر کے عوام سے الجھنا قومی مفادات کے منافی ہے۔ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
