Input your search keywords and press Enter.

آزاد کشمیر کے عوام سے تشدد کی زبان میں بات نہ کی جائے۔ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

زاد ریاست جموں و کشمیر میں گزشتہ ایک سال سے احتجاجی تحریک جاری ہے، جس میں بجلی پیداواری لاگت پر فراہم کرنے، آٹے پر سبسڈی دینے اور بلدیاتی اداروں کو موثر کرنے کے مطالبات شامل ہیں، میری معلومات کے مطابق مذاکرات کے کئی ادوار میں حکومت نے ان مطالبات کو تسلیم کیا لیکن پھر وعدوں سے مکر گئی، پاکستان میں رجیم چینج کے بعد ریاست آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی رجیم چینج کے ناجائز آپریشن کرکے ہماری اتحادی جماعت تحریک انصاف کی حکومتیں گرائی گئیں، معاملات تب سے نااہل حکومتوں کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ آج آزاد کشمیر میں پولیس اور عوام آمنے سامنے ہیں، سرکاری افسران عوام کے غیض و غضب کا نشانہ بن رہے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کے ساتھ تشدد کی زبان سے بات کرنے کے بجائے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔ یہ معاملہ قومی اسمبلی و سینیٹ میں بھی ہنگامی بنیادوں پر زیربحث لایا جائے تاکہ حساس علاقوں میں استحکام اور امن کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔ آزاد کشمیر کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو تمام آئینی و قانونی فورمز پر سنا جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے