Input your search keywords and press Enter.

سرینگر میں جلوس عزاء کے دوران زوردار طریقے سے فلسطینیوں کی حمایت میں پرچم لہرائے گئے

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم: جموں و کشمیر میں عزاداروں نے روایتی جوش و خروش کے ساتھ سرینگر میں 8ویں محرم کا جلوس نکالا۔ یہ جلوس کرن نگر کے علاقے میں گرو بازار سے شروع ہوا اور ڈل گیٹ پر ختم ہوا۔ گذشتہ روز جموں و کشمیر کی ایل جی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل دوسرے سال سرینگر میں روایتی راستے پر 8ویں محرم کے جلوس کی اجازت دی گئی۔ سرینگر کے ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ کی قیادت میں انتظامیہ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کئی شرائط عائد کیں کہ جلوس آسانی سے اور بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے جاری رہے۔ گذشتہ روز ان کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق شرکاء کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ایسی کسی بھی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں جو ریاست کی سلامتی اور خود مختاری کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔

انتظامیہ کی جانب سے عزاداروں کو ایسے جھنڈے یا علامتیں دکھانے سے منع کیا گیا تھا، جنہیں اشتعال انگیز سمجھا جا سکتا تھا یا کالعدم تنظیموں سے منسلک کیا جا سکتا تھا۔ ان شرائط کے باوجود آج عزاداروں کو فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے اور غزہ میں ظلم کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ عزاداروں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بھی لگائے اور مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اس دوران عزاداروں نے کہا کہ ہم امام حسین (ع) کے پیغام کو آگے لے جاتے ہیں، جو ہمیشہ انصاف اور مظلوموں کے لئے کھڑے رہے۔ سرینگر میں 1990ء کی دہائی سے محرم کے جلوسوں پر پابندی عائد تھی، یہ پابندی ایل جی انتظامیہ نے 2023ء میں ہٹا دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے