Input your search keywords and press Enter.

گمراہ کن بیانات کے ذریعے مسلمانوں کو بھڑکایا اور آپس میں لڑوایا جارہا ہے، مولانا مسرور عباس انصاری

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم نیوز: جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے صدر اور متحدہ مجلس علماء کے سینیئر رہنما مولانا مسرور عباس انصاری نے شہید گنج سرینگر میں پیش آئے شیعہ و سنی آپسی اختلاف کے واقع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک مذمتی بیان میں مولانا مسرور عباس انصاری نے کہا کہ ایام متبرکہ میں ہی ہر برس سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلکی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ صدیوں پرانی بھائی چارگی اور اتحاد و اتفاق کی روایت کو توڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جموں کشمیر کے غیور ذی شعور عوام کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ بلا لحاظ مسلک و مکتب اپنی مضبوط تدبیروں سے اتحاد دشمن عناصر کی ان ناپاک سازشوں کو ناکام بنایا۔

 

انہوں نے کہا کہ شہید گنج واقعہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کے لباس میں کچھ شرپسند عناصر عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرکے گمراہ کن بیانات اور من گھڑت و بے بنیاد باتوں سے مسلمانوں کے ان دو بازوں کو بھڑکا اور آپس میں لڑوارہے ہیں جو نا قابل برداشت اور قابل تشویش ہے۔ مولانا مسرور عباس انصاری نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ متحدہ طور پر ان سازشی عناصر کو بے نقاب کیا جائے اور ان مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوایا جائے۔

 

مولانا مسرور عباس انصاری نے دونوں مکتب ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا، خبروں، بے بنیاد اور من گھڑت کہانیوں اور گمراہ کن بیانات پر کان نہ دھریں اور باہمی بھائی چارہ اور اتحاد و اتفاق کی روایت برقرار رکھ کر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مکتب ہائے فکر دریا دلی دکھا کر ایک دوسرے کو معاف کریں اور مستقبل میں اپنے اپنے علاقوں میں ان فتنہ پرور اور شرپسند عناصر پر کڑی نگاہ رکھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے