Input your search keywords and press Enter.

حکومت آزاد کشمیر مہاجرین 1989ء کے حوالے سے استحصالی رویہ ترک کرے، مقررین

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم نیوز: حکومت آزاد کشمیر مہاجرین 1989ء کے حوالے سے استحصالی رویہ ترک کرے، چارٹر آف ڈیمانڈ کے مطابق آبادکاری، 6فیصد کوٹہ پر عملدرآمد، ریاستی ڈومیسائل کی اجرائیگی، مہاجرین بستیوں کے حقوق ملکیت اور قانون ساز اسمبلی میں دو نشستوں کو مختص کیے جانے کیلئے درست سمت پیش رفت کرے، بیس کیمپ حکومت تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے اپنا لائحہ عمل واضح کرے، مہاجرین جموں و کشمیر کی مرکزی قیادت کا اعلیٰ سطحی اجلاس میں مطالبہ، مقبوضہ ریاست کی آزادی کیلئے ہر محاذ پر کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔باغ آزاد کشمیر میں ”مہاجرین جموں کشمیر 1989ء” کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں متفقہ قرارداد پاس کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر بھر میرپور، کوٹلی، باغ، مظفرآباد اور مختلف شہروں میں کرایوں کے مکانوں میں رہائش پذیر ”مہاجرین جموں کشمیر 1989” کی مرکزی قیادت کا اعلیٰ سطحی اجلاس باغ شہر میں ”مہاجرین جموں کشمیر مہاجرین اتحاد فورم” کی میزبانی میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں آزاد کشمیر بھر میں قائم مختلف مہاجرین بستیوں کے صدور، منتخب کونسلرز، نمائندگان اور دیگر اہم راہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کے مہمان خصوصی امیر ”مہاجرین کشمیر 1989ء” عزیر احمد غزالی تھے جبکہ صدارت مہاجرین اتحاد فورم باغ کے سرپرست چوہدری عبدالواحد کر رہے تھے۔ اجلاس سے سیکرٹری جنرل گوہر احمد کشمیری، ارشاد احمد بٹ، محمد لطیف لون، محمد شفیع کشمیری، چوہدری محمد الطاف، مرزا ریاض جرال، ایڈووکیٹ محمود احمد قریشی، راجہ محمد عارف خان، ظفر جاوید جرال، چوہدری محمد مشتاق، مولوی محمد عزیز، سید حامد جمیل، چوہدری اشفاق حسن، اقبال یاسین اعوان، غلام محمد، منظور اقبال بٹ، چوہدری محمد صدیق، عثمان علی ہاشم، ماسٹر رشید، چوہدری خورشید، رشید احمد بٹ، چوہدری نیاز، چوہدری محمد عزیز، محمد اکثیر اعوان، سید اشرف شاہ، مختیار شاہ، محمد افضل نائیک، سردار محمد حنیف، ابو صہیب اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر مہاجرین 1989ء کے ساتھ رواں رکھے جانے والے استحصالی رویے سے باز آ جائے، مہاجرین کشمیر نے بہت تکالیف اور درد سہ لیے ہیں اب تحریک کے لیے گھر بار چھوڑنے والے کشمیری مہاجرین مزید کوئی زیادتی برداشت نہیں کریں گے۔

موجودہ اور ماضی کی بیس کیمپ حکومتوں کی لاپرواہی اور عدم توجہی کی وجہ سے تحریک آزادی کشمیر میں تن من دھن قربان کرنے والے 8500 کشمیری خاندان کسمپرسی کی زندگی جینے پر مجبور ہیں۔ تحریک آزادی کشمیر کے نام پر قائم ہونے والی آزاد کشمیر حکومت نے پیش کردہ سالانہ بجٹ 2 کھرب 64 ارب روپے میں کشمیری مہاجرین اور شہداء کے ورثاء کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بیس کیمپ کی حکومت عملاً تحریک آزادی سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے