سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم نیوز: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے دفعہ370 کی منسوخی کے بعد سے قابض حکام کی کامیابیوں پر سوال اٹھایا ہے۔ ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی نے سرینگر میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکام نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو تقسیم کر دیا جس کے نتیجے میں علاقے کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں حکام نے کیا حاصل کیا؟ لداخ اور جموں کے لوگ بھی تکلیف میں ہیں۔ جموں معیشت کا مرکز ہوا کرتا تھا لیکن آج ان کو مشکلات کا سامنا ہے، کشمیر کے لوگ گھٹن محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں حکومت کی کامیابی یہ ہے کہ شمالی کشمیر کے لوگوں نے حال ہی میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں حق خود ارادیت کے حق میں ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ370 کی منسوخی کے بعد سے حکام نے لوگوں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون یو اے پی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کا استعمال کیا ہے۔
شمالی کشمیر کے لوگوں نے حالیہ انتخابات میں حق خودارادیت کے حق میں ووٹ دیا، محبوبہ مفتی
